کراچی میں پاکستان تحریکِ انصاف کے جلسے کے بعد سیاسی بیانات کا سلسلہ تیز ہو گیا ہے۔ میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے پی ٹی آئی کی جانب سے باغِ جناح میں منعقدہ جلسے پر طنزیہ انداز میں ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ باغِ جناح ایک وسیع میدان ہے اور اسے بھرنا ہر جماعت کے لیے آسان کام نہیں ہوتا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر پی ٹی آئی کے پاس جلسے کے لیے شرکاء کی کمی تھی تو انہیں بتانا چاہیے تھا، ہم خود بندوبست کر دیتے۔
مرتضیٰ وہاب نے خیبرپختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی کے کراچی میں جلسہ کرنے پر بھی سوال اٹھایا اور کہا کہ بہتر ہوتا کہ وہ اپنے صوبے میں عوامی مسائل پر توجہ دیتے۔ ان کے مطابق دوسرے صوبوں میں آ کر سڑکیں بند کرنے اور احتجاجی سیاست کرنے سے عوام کو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا۔ میئر کراچی نے یہ بھی کہا کہ کراچی پہلے ہی مسائل کا شکار شہر ہے، یہاں سیاسی انتشار پیدا کرنے کے بجائے تعاون کی ضرورت ہے۔
دوسری جانب وزیرِ مملکت بلال اظہر کیانی نے بھی پی ٹی آئی کے طرزِ احتجاج پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پُرامن احتجاج ایک آئینی حق ہے، لیکن پی ٹی آئی اور پُرامن احتجاج کو ایک ساتھ نہیں رکھا جا سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے بیشتر احتجاج انتشار، ہنگامہ آرائی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے تصادم پر منتج ہوتے ہیں، جس سے عام شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز خیبرپختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی نے کراچی میں باغِ جناح کے قریب جلسہ کیا تھا۔ جلسے کے دوران مختلف مقامات پر کشیدگی دیکھنے میں آئی، جبکہ بعض علاقوں میں پولیس اور کارکنان کے درمیان تلخ کلامی اور جھڑپوں کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔ پولیس نے امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے کے لیے متعدد کارکنان کو حراست میں لیا۔
سندھ حکومت کی پی ٹی آئی کو وارننگ: سڑکوں پر جلسہ کی اجازت نہیں
نمائش چورنگی پر خطاب کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے الزام عائد کیا کہ ان کے کارکنان کے ساتھ مختلف مقامات پر پولیس کی جانب سے سخت رویہ اختیار کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اس کے باوجود پی ٹی آئی کے کارکن بڑی تعداد میں جمع ہوئے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ پارٹی کو عوامی حمایت حاصل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پنجاب اور سندھ دونوں صوبوں میں ان کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کیا گیا، تاہم اس کے باوجود پی ٹی آئی اپنی سیاسی جدوجہد جاری رکھے گی۔
سہیل آفریدی نے مزید اعلان کیا کہ کراچی کے بعد اگلا مرحلہ خیبرپختونخوا میں ہوگا، جہاں اسٹریٹ موومنٹ کے ذریعے بانی پی ٹی آئی کا پیغام پورے ملک میں پہنچایا جائے گا۔ سیاسی مبصرین کے مطابق کراچی جلسے کے بعد سامنے آنے والے بیانات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ آنے والے دنوں میں ملکی سیاست مزید کشیدگی کی طرف جا سکتی ہے۔
