پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) سے متعلق ایک اہم اور دور رس اثرات رکھنے والا فیصلہ کرتے ہوئے ملتان سلطانز فرنچائز کی نیلامی کا اصولی فیصلہ کر لیا ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پی ایس ایل کی دو نئی ٹیموں کی ریکارڈ قیمت پر فروخت نے بورڈ کی توقعات سے کہیں بہتر نتائج دیے ہیں اور غیرملکی سرمایہ کاروں کی دلچسپی بھی نمایاں طور پر بڑھی ہے۔
ملتان سلطانز سے متعلق حالیہ پیش رفت
ذرائع کے مطابق پی سی بی نے ابتدائی طور پر پی ایس ایل 11 میں ملتان سلطانز کے معاملات خود چلانے کا اعلان کیا تھا۔ تاہم اب تازہ پیش رفت کے تحت بورڈ نے یہ فیصلہ تبدیل کرتے ہوئے فرنچائز کو فروخت کرنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔ اس فیصلے کے پیچھے بنیادی وجہ حالیہ نیلامیوں کی غیر معمولی کامیابی بتائی جا رہی ہے، جس نے پی سی بی کو مزید حوصلہ دیا ہے۔
دو نئی ٹیموں کی ریکارڈ فروخت
ذرائع کا کہنا ہے کہ پی ایس ایل کی دو نئی ٹیموں کی آکشن پی سی بی کی توقعات سے کہیں زیادہ کامیاب رہی۔ ان ٹیموں کو ملنے والی بلند قیمتوں نے ثابت کر دیا کہ پی ایس ایل ایک مضبوط اور منافع بخش برانڈ بن چکا ہے۔ اسی کامیابی کے بعد پی سی بی نے ملتان سلطانز کی نیلامی کا فیصلہ کیا، کیونکہ بورڈ کے نزدیک اس وقت مارکیٹ میں بہتر موقع موجود ہے۔
پی ایس ایل کی آٹھویں ٹیم اوزی ڈیولپرز نے 185 کروڑ روپے میں خرید لی
اوپن بڈنگ اور قانونی پہلو
ذرائع کے مطابق ملتان سلطانز کی نیلامی اوپن بڈنگ کے ذریعے کی جائے گی، جس کے لیے جلد باضابطہ اشتہار جاری کیا جائے گا۔ پی سی بی اس عمل سے قبل تمام قانونی پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لے رہا ہے تاکہ نیلامی شفاف اور قواعد کے مطابق ہو۔ قانونی مشاورت مکمل ہونے کے بعد اس حوالے سے باضابطہ اعلان متوقع ہے۔
غیرملکی سرمایہ کاروں کی دلچسپی
ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ دو فرنچائزز کی ریکارڈ فروخت کے بعد دنیا کے مختلف خطوں سے سرمایہ کاروں کی دلچسپی میں واضح اضافہ ہوا ہے۔ غیرملکی سرمایہ کاروں کے ساتھ ساتھ مقامی کاروباری حلقے بھی ملتان سلطانز کو حاصل کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ پی سی بی کو امید ہے کہ اس فرنچائز کی نیلامی اچھی قیمت پر ہو گی، جو لیگ کی مجموعی قدر میں مزید اضافہ کرے گی۔
پی ایس ایل 11 اور توسیع شدہ لیگ
واضح رہے کہ حالیہ آکشن کے بعد پی ایس ایل 11 میں مجموعی طور پر 8 ٹیمیں شامل ہوں گی۔ نئی شامل ہونے والی ٹیموں میں حیدر آباد اور سیالکوٹ کی ٹیمیں بھی شامل ہیں۔ ماہرین کے مطابق ٹیموں کی تعداد میں اضافہ اور سرمایہ کاری کا بڑھتا رجحان پی ایس ایل کو خطے کی بڑی ٹی ٹوئنٹی لیگز میں مزید مضبوط مقام دلانے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
