کراچی میں وفاقی حکومت کے ترجمان برائے سندھ راجہ انصاری نے کہا ہے کہ شہر قائد کے عوام نے بانی پی ٹی آئی کو واضح طور پر مسترد کر دیا ہے، اس لیے پاکستان تحریک انصاف کو کراچی میں جلسے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔ کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ ایسے عناصر جو ریاست مخالف سوچ رکھتے ہوں یا دہشت گردوں کے لیے نرم گوشہ رکھتے ہوں، انہیں سیاسی سرگرمیوں کے لیے سہولت فراہم نہیں کی جا سکتی۔
راجہ انصاری نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی سیاست ہمیشہ آئین، قانون اور جمہوری اقدار کے گرد گھومتی رہی ہے، جبکہ وفاقی حکومت صرف انہی عناصر سے مذاکرات کے لیے تیار ہے جو آئین کو تسلیم کرتے ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کو کراچی سمیت ملک کے مختلف شہروں میں عوامی پذیرائی حاصل نہیں ہو سکی، جس کا ثبوت حالیہ سرگرمیوں میں کم حاضری ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ جمعے کو کراچی میں پی ٹی آئی کی سرگرمیوں کے دوران شہر کو یرغمال بنایا گیا، مگر کسی مقام پر بھی پانچ سو سے زائد افراد موجود نہیں تھے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ان سرگرمیوں میں غیر ملکی عناصر کی موجودگی اور سیکیورٹی اداروں کے خلاف نازیبا زبان استعمال کی گئی، جو ناقابلِ قبول ہے۔ راجہ انصاری کے مطابق عوامی مینڈیٹ کی توہین کی گئی اور خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ نے دیگر صوبوں کے عوام کے فیصلوں کا احترام نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ آئین ہر شہری کو ملک میں آزادانہ نقل و حرکت کی اجازت دیتا ہے، مگر ایک وزیر اعلیٰ کی بنیادی ذمہ داری اپنے صوبے کی بہتری اور امن و امان کو یقینی بنانا ہے۔
راجہ انصاری نے خیبرپختونخوا میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ صرف 2025 کے دوران ہزاروں دہشت گردی کے واقعات رپورٹ ہو چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کو متنازع بنانا حلف کی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔ انہوں نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ صوبے میں اسمگلنگ اور غیر قانونی سرگرمیوں سے فائدہ اٹھایا جا رہا ہے، جبکہ عوام اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہیں۔
انہوں نے بلاول بھٹو زرداری اور وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ سے مطالبہ کیا کہ کراچی میں پی ٹی آئی کو جلسے کی اجازت نہ دی جائے، کیونکہ اگر ایسے عناصر کو اجازت دی گئی تو کل کو دیگر شدت پسند گروہ بھی اسی نوعیت کے مطالبات کر سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جلسوں کی اجازت صرف آئینی اور جمہوری جماعتوں کو دی جانی چاہیے، نہ کہ ان گروہوں کو جو انتشار اور بدامنی کو فروغ دیتے ہیں۔
راجہ انصاری نے کہا کہ وزیر اعظم کی جانب سے ان عناصر کو مذاکرات کی پیشکش کی گئی ہے جو آئین کو مانتے ہیں، تاہم دہشت گردوں کے سہولت کاروں کے لیے مذاکرات کے دروازے بند ہیں۔ آخر میں انہوں نے ایک بار پھر اس بات پر زور دیا کہ کراچی اور دیگر شہروں کے عوام بانی پی ٹی آئی کو مسترد کر چکے ہیں اور آئندہ سندھ میں گورنر مسلم لیگ (ن) ہی کا ہوگا۔
