پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے 11 ویں ایڈیشن کے لیے شائقین میں جوش و خروش بڑھ گیا ہے کیونکہ لیگ میں دو نئی ٹیموں کی شمولیت کے بعد اب ڈرافٹ کا انتظار جاری ہے۔ ذرائع کے مطابق پی ایس ایل مینجمنٹ نے ڈرافٹ کے حوالے سے منصوبہ بندی شروع کر دی ہے اور امکان ہے کہ یہ تقریب 30 جنوری کو منعقد ہوگی۔
ذرائع نے بتایا کہ پی ایس ایل 11 کا ڈرافٹ پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان ہونے والی ٹی ٹوئنٹی سیریز کے دوران ایک دن کے وقفے میں ہوگا تاکہ تمام اسٹیک ہولڈرز ڈرافٹ میں شامل ہو سکیں۔ ڈرافٹ میں تمام آٹھ موجودہ فرنچائزز کے مالکان، کوچز اور نمائندے شریک ہوں گے، جبکہ اب نئی شامل ہونے والی سیالکوٹ اور حیدرآباد کی ٹیمیں بھی اپنی اسکواڈ مکمل کرنے کے لیے ڈرافٹ میں حصہ لیں گی۔
پی ایس ایل مینجمنٹ نے ڈرافٹ سے قبل تمام ضروری انتظامات مکمل کرنے کی منصوبہ بندی کر لی ہے، اور وینیو اور تاریخ کا باقاعدہ اعلان جلد متوقع ہے۔ لیگ میں لاہور قلندرز، کراچی کنگز، پشاور زلمی، کوئٹہ گلیڈی ایٹرز، اسلام آباد یونائیٹڈ اور ملتان سلطانز کے ساتھ اب سیالکوٹ اور حیدرآباد کی ٹیمیں بھی شامل ہو گئی ہیں، جس سے لیگ کی مجموعی مقابلہ جاتی فضا مزید دلچسپ اور شائقین کے لیے پرجوش بن گئی ہے۔
پی ایس ایل کی آٹھویں ٹیم اوزی ڈیولپرز نے 185 کروڑ روپے میں خرید لی
ذرائع کے مطابق پی ایس ایل میں نئی ٹیموں کی شمولیت نہ صرف مقابلوں کو مزید مسابقتی بنائے گی بلکہ مالی لحاظ سے بھی لیگ کی اہمیت میں اضافہ کرے گی۔ دونوں نئے شہروں کے عوام اس بات پر خوش ہیں کہ ان کے شہر کی نمائندگی اب پاکستان کی سب سے بڑی ٹی ٹوئنٹی لیگ میں ہوگی۔
اس ڈرافٹ کے بعد ٹیمیں اپنی اسکواڈ کو حتمی شکل دیں گی اور پی ایس ایل کے 11 ویں ایڈیشن کی تیاریوں کا عمل مکمل طور پر آغاز ہو جائے گا۔ شائقین اور کرکٹ تجزیہ کار دونوں ہی لیگ کے اس ایڈیشن سے کافی توقعات رکھتے ہیں کیونکہ اس میں نئے کھلاڑیوں کے ساتھ مقابلے کے نئے رنگ بھی نظر آئیں گے۔
