امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران کو خبردار کیا ہے کہ اگر وہاں مظاہرین کے خلاف ہنسی اور قتل کی کارروائیاں کی گئیں تو امریکہ سخت ردعمل دے گا۔ تاہم، انہوں نے واضح کیا کہ اس کا مطلب یہ نہیں کہ امریکی فوجی ایران میں تعینات کی جائیں گی۔
وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ ایران میں جاری حالات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ امریکی حکومت مظاہرین کی حفاظت کے لیے ہر ممکن قدم اٹھانے کے لیے تیار ہے، لیکن اس کا مطلب ایران میں فوجی مداخلت نہیں ہوگا۔ انہوں نے زور دے کر کہا، "جواب دینا اور مداخلت کرنا لازمی نہیں کہ فوج اتارنے کا مطلب ہو۔”
صدر ٹرمپ نے ایران میں صورتحال کو تشویشناک قرار دیا اور دعویٰ کیا کہ ایرانی حکومت کی جانب سے طویل عرصے تک عوام کے ساتھ بدسلوکی کے بعد اب عوام اپنی آواز بلند کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بعض ایرانی شہروں پر حکومت کے قبضے کی خبریں موصول ہوئی ہیں اور لوگ اپنے حقوق کے لیے احتجاج کر رہے ہیں۔
ایران میں مظاہروں کے دوران نیتن یاہو کا ایرانی عوام سے یکجہتی کا اظہار
ٹرمپ نے مزید کہا کہ امریکہ مظاہرین کے انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے حالات کا بغور جائزہ لے رہا ہے اور ضرورت پڑنے پر سخت اقدامات کرے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ امریکی موقف ایران میں قیام امن اور عوامی حقوق کے تحفظ پر مرکوز ہے، نہ کہ فوجی مداخلت پر۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز بھی صدر ٹرمپ نے ایرانی حکومت کو سخت تنبیہ دی تھی اور کہا تھا کہ مظاہرین کے قتل کی صورت میں امریکہ بھرپور اور سخت جواب دے گا۔ اس بیان کے ذریعے امریکی صدر نے عالمی برادری اور ایران دونوں کو خبردار کیا کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو نظرانداز نہیں کیا جائے گا، لیکن وہ فوجی کارروائی کے بغیر بھی مؤثر ردعمل کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
