گجرات میں عوام کو محفوظ اور معیاری خوراک کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے پنجاب فوڈ اتھارٹی نے مؤثر اور بھرپور کارروائیاں انجام دیں۔ ڈپٹی ڈائریکٹر پنجاب فوڈ اتھارٹی گجرات رضوان سعید کی سربراہی میں ٹیم نے ضلع بھر میں مختلف خوراک سے وابستہ یونٹس، دکانوں اور مراکز کا تفصیلی معائنہ کیا، جس کے دوران متعدد خلاف ورزیاں سامنے آئیں۔
پنجاب فوڈ اتھارٹی کے مطابق اس مہم کے دوران مجموعی طور پر 91 مقامات کا معائنہ کیا گیا۔ ان معائنہ جات کے نتیجے میں خوراک کے معیار، صفائی ستھرائی اور فوڈ سیفٹی قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے کاروباروں کو 33 بہتری کے نوٹس جاری کیے گئے۔ ان نوٹسز کے ذریعے متعلقہ مالکان کو ہدایت کی گئی کہ وہ مقررہ مدت کے اندر اپنی خامیوں کو دور کریں، بصورت دیگر سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
مزید برآں، فوڈ سیفٹی قوانین کی سنگین خلاف ورزیوں پر 8 مختلف کیسز میں جرمانے بھی عائد کیے گئے۔ ان جرمانوں کی مجموعی رقم 1 لاکھ 71 ہزار روپے بنتی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ جرمانے ان کاروباروں پر عائد کیے گئے جہاں خوراک کے معیار، صفائی اور لائسنسنگ سے متعلق واضح غفلت پائی گئی۔
معائنے کے دوران پنجاب فوڈ اتھارٹی کی ٹیم نے 1.3 کلوگرام کے قریب ایکسپائرڈ اور ممنوعہ خوراکی اشیاء بھی برآمد کیں، جنہیں موقع پر ہی تلف کر دیا گیا۔ حکام کے مطابق یہ اشیاء انسانی صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی تھیں، اس لیے ان کا فوری طور پر تلف کرنا ضروری تھا۔
پنجاب فوڈ اتھارٹی گجرات کی کارروائیاں، 40 ہزارکے جرمانے، غیر معیاری اشیاء موقع پر تلف
ڈپٹی ڈائریکٹر رضوان سعید نے اس موقع پر کہا کہ پنجاب فوڈ اتھارٹی کا بنیادی مقصد عوام کو محفوظ، صحت بخش اور معیاری خوراک کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ناقص، مضرِ صحت اور غیر معیاری خوراک فروخت کرنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ فوڈ اتھارٹی کی کارروائیاں باقاعدگی سے جاری رہیں گی اور خوراک سے وابستہ تمام کاروباری افراد کو فوڈ سیفٹی قوانین پر سختی سے عمل کرنا ہوگا۔ انہوں نے عوام سے بھی اپیل کی کہ وہ غیر معیاری یا مشتبہ خوراک کی نشاندہی کریں تاکہ بروقت کارروائی ممکن بنائی جا سکے۔
پنجاب فوڈ اتھارٹی کی یہ کارروائیاں اس عزم کی عکاس ہیں کہ عوامی صحت پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور گجرات میں معیاری خوراک کی فراہمی کے لیے قانون کی عملداری ہر صورت یقینی بنائی جائے گی۔
