ایران میں مہنگائی اور معاشی مشکلات کے خلاف احتجاجی مظاہرے تہران سے شروع ہو کر ملک کے 40 شہروں تک پھیل گئے ہیں۔ سرکاری رپورٹس کے مطابق گزشتہ روز مظاہروں میں چار افراد جاں بحق ہوئے، اور ایک ہفتے سے جاری احتجاج کے دوران سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں سمیت مجموعی طور پر 12 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
مظاہروں کی شدت اور شہری مشکلات
احتجاجی لہر کے دوران شہریوں کو انٹرنیٹ کی فراہمی میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ایرانی وزیر اطلاعات و مواصلات ستار ہاشمی نے صحافیوں کو بتایا کہ ایران نے اتوار کو اپنی تاریخ کے سب سے بڑے سائبر حملوں میں سے ایک کو ناکام بنایا، جس کی وجہ سے انٹرنیٹ بینڈوتھ میں کمی واقع ہو سکتی ہے۔ اس کے نتیجے میں شہریوں کے لیے آن لائن معلومات اور سوشل میڈیا تک رسائی محدود ہو گئی ہے۔
حکومتی موقف
ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے ایک بیان میں ایران کی معاشی مشکلات اور کرنسی کی قدر میں کمی کے پیچھے بیرونی دشمنوں کا ہاتھ قرار دیا۔ انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی کے جواب میں کہا کہ ایران کسی دشمن کے سامنے نہیں جھکے گا اور اپنے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔
بین الاقوامی تشویش
ماہرین کے مطابق ایران میں یہ مظاہرے ملک کی بڑھتی ہوئی مہنگائی، اقتصادی بے چینی اور عوامی ناراضگی کی عکاسی کرتے ہیں۔ ان مظاہروں کے دوران انٹرنیٹ اور کمیونیکیشن کی محدودیت عالمی برادری کے لیے تشویش کا باعث بن سکتی ہے، کیونکہ اس سے مظاہرین کی آواز کو بیرونی دنیا تک پہنچنے سے روکا جا رہا ہے۔
یہ مظاہرے ایران میں بڑھتی ہوئی معاشی مشکلات اور عوامی احتجاج کی ایک بڑی لہر کے طور پر سامنے آئے ہیں، جس پر حکومت اور عالمی طاقتوں کی توجہ مرکوز ہے۔
