بنگلادیش کرکٹ بورڈ (BCB) نے اعلان کیا ہے کہ ٹی 20 ورلڈکپ کے لیے بنگلادیش کی قومی ٹیم بھارت کا دورہ نہیں کرے گی۔ بورڈ کی ہنگامی میٹنگ میں بھارت اور سری لنکا میں ہونے والے ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کی تیاریوں اور حالیہ سیاسی و سکیورٹی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اس کے بعد بورڈ آف گورنرز نے فیصلہ کیا کہ بنگلادیش کی ٹیم بھارت نہیں جائے گی، اور اس فیصلے سے آئی سی سی کو بھی آگاہ کر دیا گیا ہے۔
فیصلہ لینے کی وجوہات
بنگلادیشی بورڈ کے مطابق یہ فیصلہ بھارتی کرکٹ بورڈ کی جارحانہ اور فرقہ وارانہ پالیسیوں کے تناظر میں کیا گیا ہے۔ بنگلادیش کے مشیر برائے کھیل نے کہا کہ حالیہ دنوں میں بھارتی انتہا پسندوں کے دباؤ کی وجہ سے آئی پی ایل میں فاسٹ بولر مستفیض الرحمان کو ریلیز کرنا پڑا، جس سے بھارت اور بنگلادیشی بورڈ کے درمیان کشیدگی بڑھ گئی۔
بی سی بی کے مطابق وہ آئی سی سی کو خط لکھ کر بھارت میں ٹی 20 ورلڈکپ کے سکیورٹی پلان اور میچز کے تحفظ کے اقدامات کے بارے میں وضاحت طلب کرے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ، بنگلادیشی بورڈ یہ بھی تجویز کرے گا کہ اپنی ٹیم کے میچز بھارت کی بجائے سری لنکا میں کرائے جائیں۔
اسکواڈ اور میچ شیڈول
بنگلادیش نے اپنے ورلڈکپ اسکواڈ کا اعلان بھی کر دیا ہے۔ ٹیم کی قیادت لٹن کمار داس کریں گے جبکہ سیف حسن نائب کپتان مقرر کیے گئے ہیں۔ بنگلادیش کے گروپ میں انگلینڈ، ویسٹ انڈیز، نیپال اور اٹلی شامل ہیں۔ بنگلادیش کا پہلا میچ 7 فروری کو کلکتہ میں ویسٹ انڈیز کے خلاف شیڈول ہے۔
بین الاقوامی پس منظر
یہ فیصلہ پاکستان کی قومی ٹیم کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا ہے کہ وہ بھی بھارت میں اپنے میچز نہیں کھیلے گی اور انہیں سری لنکا میں منتقل کیا جائے گا۔ ماہرین کے مطابق اس قسم کے فیصلے کھیل کے عالمی شیڈول پر اثر انداز ہو سکتے ہیں، لیکن کھلاڑیوں اور بورڈز کی حفاظت اولین ترجیح ہے۔
اس پیش رفت کے بعد عالمی کرکٹ میں سیاسی اور سکیورٹی وجوہات کے زیر اثر کھیلوں کی منظم منصوبہ بندی پر دوبارہ بحث چھڑ گئی ہے، اور یہ سوال اہمیت اختیار کر گیا ہے کہ عالمی ٹورنامنٹس میں شرکاء کی حفاظت کو کس حد تک یقینی بنایا جا سکتا ہے۔
