والدین کے دباؤ میں شادی، رابی پیرزادہ کا خلع پر انکشاف

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

سابق اداکارہ اور گلوکارہ رابی پیرزادہ نے اپنی ذاتی زندگی سے متعلق ایک اہم اور حساس انکشاف کرتے ہوئے بتایا ہے کہ انہوں نے والدین کے دباؤ میں آ کر شادی کی، جو بعد ازاں خلع پر منتج ہوئی۔ یہ بات انہوں نے پہلی مرتبہ عوامی سطح پر بیان کی، جس پر شائقین اور سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے خاصی توجہ دی جا رہی ہے۔

latest urdu news

احمد علی بٹ کو دیے گئے انٹرویو میں گفتگو

رابی پیرزادہ نے حال ہی میں اداکار اور میزبان احمد علی بٹ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں اپنی زندگی کے مختلف پہلوؤں پر بات کی۔ اس گفتگو کے دوران انہوں نے نہ صرف اپنے سماجی کاموں کا ذکر کیا بلکہ اپنی شادی اور خلع کے بارے میں بھی کھل کر اظہارِ خیال کیا۔ ان کے مطابق وہ اس موضوع پر پہلے کبھی بات نہیں کر پائیں، تاہم اب انہوں نے سچ سامنے لانے کا فیصلہ کیا۔

شادی اور خلع سے متعلق پہلا انکشاف

شادی سے متعلق سوال کے جواب میں رابی پیرزادہ نے بتایا کہ ان کی شادی ہوئی تھی، لیکن ازدواجی زندگی میں درپیش مسائل کے بعد انہوں نے خلع لینے کا فیصلہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ بات وہ پہلی بار بتا رہی ہیں اور اس سے قبل انہوں نے اس معاملے پر خاموشی اختیار کیے رکھی۔ رابی پیرزادہ کے مطابق بعض اوقات حالات ایسے ہو جاتے ہیں کہ علیحدگی ہی بہتر راستہ محسوس ہوتی ہے۔

والدین کے دباؤ اور وٹا سٹا شادی

انٹرویو کے دوران میزبان کی جانب سے یہ سوال بھی کیا گیا کہ کوئی ایسا سمجھوتہ جو نہیں کرنا چاہیے تھا؟ اس پر رابی پیرزادہ نے واضح انداز میں کہا کہ انہیں والدین کے دباؤ میں آ کر شادی نہیں کرنی چاہیے تھی۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی شادی وٹا سٹا، یعنی باہمی تبادلے کی شادی تھی، جس میں اکثر فیصلے ذاتی خواہشات کے بجائے خاندانی دباؤ کے تحت کیے جاتے ہیں۔

دوبارہ شادی سے متعلق مؤقف

دوبارہ شادی کے امکان سے متعلق سوال پر رابی پیرزادہ نے کہا کہ وہ آئندہ زندگی میں دوبارہ شادی کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔ ان کے مطابق ماضی کے تجربات انسان کو بہت کچھ سکھاتے ہیں اور بہتر فیصلوں میں مدد دیتے ہیں۔

معاشرتی تناظر اور اہم پیغام

رابی پیرزادہ کا یہ انکشاف پاکستانی معاشرے میں شادی سے متعلق دباؤ اور روایتی فیصلوں پر ایک سنجیدہ بحث کو جنم دیتا ہے۔ ماہرین کے مطابق خاندانی دباؤ میں کیے گئے فیصلے اکثر مسائل کا سبب بنتے ہیں، اس لیے شادی جیسے اہم فیصلے میں فرد کی رضامندی اور خوشی کو بنیادی حیثیت حاصل ہونی چاہیے۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter