ماہرینِ فلکیات نے آئندہ رمضان المبارک، عید الفطر اور عید الاضحیٰ کی ممکنہ تاریخوں سے متعلق اپنی پیش گوئیاں جاری کر دی ہیں۔ ان اندازوں کی بنیاد فلکیاتی حسابات، چاند کی پیدائش (New Moon) اور رویت کے امکانات پر رکھی گئی ہے۔ اگرچہ پاکستان میں حتمی اعلان مرکزی رویتِ ہلال کمیٹی کی جانب سے کیا جاتا ہے، تاہم فلکیاتی پیش گوئیاں عوام کو ابتدائی تیاری میں مدد فراہم کرتی ہیں۔
رمضان المبارک کے چاند سے متعلق پیش گوئی
معروف ماہرِ فلکیات ڈاکٹر فہیم ہاشمی کے مطابق پاکستان میں رمضان المبارک کا چاند 18 فروری کو نظر آنے کا قوی امکان ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ چاند کی عمر، بلندی اور موسمی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے سائنسی طور پر یہ امکان موجود ہے کہ اگر موسم صاف رہا تو چاند دیکھا جا سکے گا۔ اسی بنیاد پر یکم رمضان 19 فروری کو ہونے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔
رمضان المبارک مسلمانوں کے لیے عبادات، صبر اور تقویٰ کا مہینہ سمجھا جاتا ہے، اس لیے چاند کی رویت سے متعلق معلومات میں عوامی دلچسپی ہمیشہ زیادہ رہتی ہے۔
عید الفطر کی ممکنہ تاریخ
ماہرِ فلکیات کے مطابق شوال کا چاند 20 مارچ کو نظر آنے کا امکان ہے، جس کے بعد عید الفطر 21 مارچ کو منائی جا سکتی ہے۔ فلکیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس تاریخ پر چاند کی پوزیشن ایسی ہوگی کہ رویت کے امکانات بہتر ہوں گے، تاہم حتمی فیصلہ حسبِ روایت چاند دیکھنے کے بعد ہی کیا جائے گا۔
عید الفطر رمضان المبارک کے اختتام پر خوشی اور شکرانے کے طور پر منائی جاتی ہے، جس کی تیاریوں کا آغاز عام طور پر رمضان کے آخری عشرے میں ہو جاتا ہے۔
عید الاضحیٰ اور ذوالحج کی تاریخیں
ڈاکٹر فہیم ہاشمی کے مطابق ذوالحج کا آغاز 17 مئی سے ہونے کا امکان ہے۔ سائنسی بنیادوں پر عید الاضحیٰ 27 مئی کو ہونے کی پیش گوئی کی جا رہی ہے۔ ذوالحج اسلامی سال کا آخری مہینہ ہے، جس میں حج اور قربانی جیسے اہم عبادات ادا کی جاتی ہیں۔
فلکیاتی پیش گوئیاں اور حتمی اعلان
ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ فلکیاتی حسابات کافی حد تک درست ہوتے ہیں، تاہم پاکستان میں مذہبی طور پر چاند کی آنکھوں سے رویت کو ہی فیصلہ کن حیثیت حاصل ہے۔ اس لیے رمضان المبارک اور عیدین کی حتمی تاریخوں کا اعلان مرکزی رویتِ ہلال کمیٹی کی جانب سے کیا جائے گا۔
اس کے باوجود، ماہرینِ فلکیات کی یہ پیش گوئیاں عوام کو پیشگی منصوبہ بندی اور ذہنی تیاری میں اہم رہنمائی فراہم کرتی ہیں۔
