وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناءاللّٰہ نے ملک میں جاری سیاسی تناؤ اور عدم استحکام پر گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ اعتماد سازی کے بغیر معاملات آگے نہیں بڑھ سکتے، اس لیے ضروری ہے کہ ملک کی پانچ بڑی سیاسی اور ریاستی شخصیات آپس میں مل بیٹھیں۔
ان کا کہنا تھا کہ صدرِ مملکت، وزیراعظم، بانی پی ٹی آئی اور دیگر اہم رہنماؤں کے درمیان براہِ راست رابطہ ہی موجودہ بحران سے نکلنے کا واحد راستہ ہے۔
جیو نیوز کے پروگرام ’’کیپیٹل ٹاک‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے رانا ثناءاللّٰہ نے واضح کیا کہ اس تجویز پر پاکستان پیپلز پارٹی بھی حکومت کے ساتھ متفق ہے۔ ان کے مطابق جب تک اعلیٰ سطح پر اعتماد بحال نہیں ہوگا، سیاسی ڈیڈ لاک ٹوٹنا ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ محض نچلی سطح کے رابطوں یا انفرادی ملاقاتوں سے کوئی بڑی پیش رفت نہیں ہو سکتی۔
رانا ثناءاللّٰہ نے پاکستان تحریکِ انصاف کے کردار پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر پی ٹی آئی سوشل میڈیا پر ریاستی اداروں کے خلاف چلائی جانے والی مہم بند کر دے تو حالات میں واضح بہتری آ سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسی صورت میں بانی پی ٹی آئی اور ان کی جماعت کیلئے معاملات آسان ہو سکتے ہیں اور ملاقاتوں کا راستہ بھی ہموار ہو سکتا ہے۔
عمران خان مذاکرات کے بجائے افراتفری کی سیاست کر رہے ہیں، رانا ثنااللہ
انہوں نے زور دیا کہ جن سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے ذریعے اداروں کے خلاف مہم چلائی جا رہی ہے، انہیں بند کیا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق پی ٹی آئی قیادت یہ مؤقف اختیار کر کے بری الذمہ نہیں ہو سکتی کہ ان اکاؤنٹس پر ان کا کوئی کنٹرول نہیں۔ رانا ثناءاللّٰہ نے کہا کہ پی ٹی آئی کو عملی طور پر ان اکاؤنٹس سے لاتعلقی ظاہر کرنا ہوگی تاکہ ماحول میں سنجیدگی پیدا ہو۔
مشیر برائے سیاسی امور نے ایک واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ جب بانی پی ٹی آئی کی بہن نے ان سے ملاقات کی تو جیل سپرنٹنڈنٹ نے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو نہ کرنے کی ہدایت کی تھی، جس کا مقصد صورتحال کو مزید خراب ہونے سے بچانا تھا۔
رانا ثناءاللّٰہ نے پی ٹی آئی کی جانب سے 8 فروری کو دی گئی احتجاجی اپیل پر بھی تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ اپیل کامیاب نہیں ہوگی اور جماعت پہیہ جام کرنے میں ناکام رہے گی۔ ان کے مطابق ملک کسی نئے تصادم کا متحمل نہیں ہو سکتا۔
انہوں نے آخر میں کہا کہ اصل پیش رفت صرف اسی وقت ممکن ہے جب پانچ بڑی شخصیات، جن میں وزیراعظم شہباز شریف، صدر آصف علی زرداری اور بانی پی ٹی آئی شامل ہیں، اعتماد سازی کیلئے سنجیدہ اقدامات کریں۔ رانا ثناءاللّٰہ کے مطابق ان کے اور عامر ڈوگر کے ذاتی رابطوں سے کوئی بریک تھرو ممکن نہیں، اصل فیصلہ کن کردار اعلیٰ قیادت ہی ادا کر سکتی ہے۔
