سابق سربراہ پاک فضائیہ ائیر مارشل نور خان کی صاحبزادی انتقال کر گئیں

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

امریکا کی ریاست ورجینیا میں پیش آنے والے ایک افسوسناک ٹریفک حادثے کے نتیجے میں سابق سربراہ پاک فضائیہ ائیر مارشل (ر) نور خان کی صاحبزادی اور معروف ماہرِ اطفال ڈاکٹر فائقہ نور خان انتقال کر گئیں۔

latest urdu news

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ حادثہ ورجینیا کی کاؤنٹی ڈینوڈی میں ویک اینڈ کے دوران پیش آیا، جہاں وہ اپنی گاڑی چلا رہی تھیں۔

پولیس حکام کے مطابق ڈاکٹر فائقہ نور خان، جن کی عمر 75 برس تھی اور جو فائقہ آفتاب قریشی کے نام سے بھی جانی جاتی تھیں، کی گاڑی اچانک بے قابو ہو کر سڑک سے ٹکرا گئی۔ تصادم کے فوراً بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی، جس کے باعث وہ موقع پر ہی جانبر نہ ہو سکیں۔ ریسکیو اداروں نے جائے حادثہ پر پہنچ کر کارروائی کی تاہم شدید آگ کے باعث انہیں بچایا نہ جا سکا۔

ظہران ممدانی نے نیویارک کے پہلے مسلم میئر کی حیثیت سے حلف اٹھا لیا

ڈاکٹر فائقہ نور خان پیشے کے اعتبار سے ایک ممتاز پیڈیاٹریشن تھیں اور طبی شعبے میں ان کی خدمات کو غیر معمولی اہمیت حاصل تھی۔ انہوں نے 1993 میں امریکا کے معروف چلڈرن آف دی کنگز ڈاٹر اسپتال میں بطور فزیشن اپنی ذمہ داریاں سنبھالیں۔ بعد ازاں وہ طویل عرصے تک اسی اسپتال کے ایمرجنسی ڈپارٹمنٹ میں میڈیکل ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز رہیں، جہاں انہوں نے نہ صرف ہزاروں بچوں کا علاج کیا بلکہ کئی نوجوان ڈاکٹرز کی پیشہ ورانہ تربیت میں بھی کلیدی کردار ادا کیا۔

اسپتال کی جانب سے جاری بیان میں ڈاکٹر فائقہ نور خان کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا گیا۔ بیان میں کہا گیا کہ بچوں اور ان کے اہلِ خانہ کے ساتھ ان کی ہمدردانہ وابستگی، پیشہ ورانہ دیانت اور تدریسی خدمات نے ایک ایسا نقش چھوڑا ہے جو طویل عرصے تک یاد رکھا جائے گا۔

ادھر پاکستان میں بھی ان کے انتقال پر طبی اور سماجی حلقوں میں رنج و غم کی فضا پائی جاتی ہے۔ کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی لاہور نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے تعزیتی پیغام میں کہا کہ ڈاکٹر فائقہ نور خان ادارے کی ایک نہایت قابل اور ذہین طالبہ تھیں، جنہوں نے 1973 میں گریجویشن مکمل کی۔ یونیورسٹی کے مطابق ان کا شمار ان فارغ التحصیل طلبہ میں ہوتا ہے جنہوں نے بین الاقوامی سطح پر پاکستان کا نام روشن کیا۔

ڈاکٹر فائقہ نور خان کا انتقال نہ صرف ان کے اہلِ خانہ بلکہ عالمی طبی برادری کے لیے بھی ایک ناقابلِ تلافی نقصان قرار دیا جا رہا ہے۔

شیئر کریں:

زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter