توشہ خانہ ٹو کیس کا فیصلہ: عمران خان اور بشریٰ بی بی کو طویل قید اور جرمانے کی سزا

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

اڈیالہ جیل راولپنڈی میں قائم خصوصی عدالت نے توشہ خانہ ٹو کیس کا فیصلہ سنا دیا، جس کے تحت بانی پاکستان تحریکِ انصاف عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو مجموعی طور پر 17، 17 سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ اس فیصلے کو ملکی سیاست اور احتساب کے عمل میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

latest urdu news

تفصیلات کے مطابق توشہ خانہ ٹو کیس کی سماعت اسپیشل جج سینٹرل شاہ رخ ارجمند نے کی۔ آج ہونے والی سماعت میں عدالت نے ملزمان کے دفعہ 342 کے بیانات اور فریقین کے حتمی دلائل مکمل ہونے کے بعد محفوظ فیصلہ سنایا۔ اس سے قبل کیس کی آخری سماعت 16 اکتوبر کو ہوئی تھی، جس کے بعد مختلف وجوہات کی بنا پر سماعت تین مرتبہ ملتوی کی گئی۔

عدالتی فیصلے کے مطابق عمران خان اور بشریٰ بی بی کو توشہ خانہ سے متعلق بدعنوانی کے الزام میں 10، 10 سال قید کی سزا سنائی گئی، جبکہ پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 409 کے تحت دونوں کو مزید 7، 7 سال قید کی سزا دی گئی۔ اس طرح دونوں کی مجموعی سزا 17، 17 سال بنتی ہے۔ عدالت نے دونوں ملزمان پر مجموعی طور پر ایک کروڑ 64 لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا ہے۔

کیس کا پس منظر بیان کیا جائے تو 12 دسمبر 2024 کو عمران خان اور بشریٰ بی بی پر توشہ خانہ ٹو کیس میں فردِ جرم عائد کی گئی تھی۔ ابتدائی طور پر اس کیس کی تحقیقات نیب کے ذریعے کی گئیں، جہاں چھ سماعتیں ہوئیں۔ بعد ازاں سپریم کورٹ کے فیصلے کے نتیجے میں یہ کیس ایف آئی اے کو منتقل کر دیا گیا۔

عمران خان کے خلاف توشہ خانہ ٹو کیس کا جیل ٹرائل ایک بار پھر منسوخ

انکوائری کا آغاز 7 جنوری 2024 کو ہوا، جسے نیب نے 12 جولائی 2024 کو مکمل کیا۔ 13 جولائی 2024 کو عمران خان اور بشریٰ بی بی کو گرفتار کیا گیا، جبکہ ریفرنس 20 اگست 2024 کو دائر کیا گیا۔ بعد ازاں 6 ستمبر 2024 کو نیب ترامیم سے متعلق کیس کی رٹ سپریم کورٹ میں دائر کی گئی۔ مقدمے کی باقاعدہ سماعت اسپیشل جج سینٹرل کی عدالت میں 16 ستمبر 2024 کو شروع ہوئی۔

یاد رہے کہ اس کیس کی بنیاد 2021 میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کے سعودی عرب کے دورے کے دوران ملنے والے قیمتی تحائف ہیں۔ الزام ہے کہ تحفے میں ملنے والا گراف جیولری سیٹ توشہ خانہ میں جمع کرانے کے بجائے ذاتی استعمال میں رکھا گیا اور آدھی قیمت ادا کر کے اسے اپنے پاس رکھا گیا، جو قوانین کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے۔

عدالتی فیصلے کے بعد سیاسی حلقوں میں شدید ردعمل دیکھنے میں آ رہا ہے، جبکہ اس فیصلے کو احتساب کے نظام اور قانون کی بالادستی کے حوالے سے ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter