امریکا نے افغان پاسپورٹ رکھنے والے تمام افراد کے لیے ویزوں کا اجرا اچانک روک دیا ہے، جبکہ پناہ کے خواہشمندوں کی اسائلم درخواستوں پر بھی فیصلے معطل کر دیے گئے ہیں۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ یہ اقدام قومی سلامتی اور عوام کے تحفظ کے لیے ضروری سمجھا گیا، اسی وجہ سے اس طرح کے معاملات کو فوری طور پر مؤخر کیا گیا ہے۔
محکمہ خارجہ کے اعلان کے ساتھ ہی یو ایس سٹیزن شپ اینڈ امیگریشن سروسز نے بھی اپنے فیصلے روکنے کا حکم جاری کیا ہے، جس کے مطابق کسی بھی غیر ملکی کی سیکیورٹی جانچ مکمل ہونے تک کوئی کارروائی آگے نہیں بڑھائی جائے گی۔
ادارے کے ڈائریکٹر جوزیف ایڈلو نے واضح کیا کہ مکمل تسلی کے بغیر کسی بھی شخص کی درخواست پر کارروائی نہیں ہوگی۔
USCIS has halted all asylum decisions until we can ensure that every alien is vetted and screened to the maximum degree possible. The safety of the American people always comes first.
— USCIS Director Joseph B. Edlow (@USCISJoe) November 28, 2025
واضح رہے کہ گزشتہ روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ تیسری دنیا کے ممالک سے ہجرت کو مستقل طور پر روکنے کا ارادہ رکھتے ہیں اور ایسے افراد کی شہریت منسوخ کی جائے گی جو اندرونی امن کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔
یہ صورتحال اس واقعے کے بعد سامنے آئی، جس میں وائٹ ہاؤس کے قریب ایک افغان نژاد شخص نے نیشنل گارڈز پر فائرنگ کی۔ اس حملے میں ایک خاتون نیشنل گارڈ ہلاک اور ایک شدید زخمی ہوا۔
امریکی میڈیا کے مطابق مبینہ حملہ آور افغان شہری 2021 میں ری سیٹلمنٹ پروگرام کے تحت امریکا آیا تھا۔ اس واقعے کے پیش نظر امریکی اداروں نے امیگریشن سے متعلق سخت اقدامات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
