امریکی ریاست کیلیفورنیا کے شہر لاس اینجلس میں پولیس کی فائرنگ سے ایک 36 سالہ سکھ نوجوان ہلاک ہو گیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ مقتول شخص گرپریت سنگھ نے عوامی مقام پر خنجر اور تلوار لہراتے ہوئے لوگوں کو ڈرانے کی کوشش کی تھی۔
واقعہ 13 جولائی کو شہر کے مصروف ترین علاقے کرپٹو ڈاٹ کام ایرینا کے قریب پیش آیا، جہاں گرپریت سنگھ نے اپنی گاڑی سڑک کے بیچوں بیچ روک کر سکھ مارشل آرٹ "گٹکا” کے انداز میں تلوار (کھنڈا) لہرانا شروع کر دی۔
پولیس کے مطابق متعدد شہریوں نے 911 پر کالز کیں، جس پر لاس اینجلس پولیس ڈیپارٹمنٹ (LAPD) کے اہلکار فوری موقع پر پہنچے۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ بارہا تنبیہ اور ہتھیار پھینکنے کی ہدایت کے باوجود گرپریت سنگھ نے تعاون نہیں کیا، بلکہ پولیس پر بوتل پھینکی اور فرار ہونے کی کوشش میں ایک پولیس گاڑی سے ٹکرا گیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ جب اہلکار اس کے قریب پہنچے تو اس نے دو دھاری تلوار سے حملہ کرنے کی کوشش کی، جس پر پولیس نے فائرنگ کر دی۔ گرپریت سنگھ کو زخمی حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا، تاہم وہ جانبر نہ ہو سکا۔
جائے وقوعہ سے دو فٹ لمبا ’کھنڈا‘ بطور ثبوت تحویل میں لے لیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق اس واقعے میں کوئی اہلکار یا عام شہری زخمی نہیں ہوا۔
واقعے پر سکھ برادری اور انسانی حقوق کے اداروں کی جانب سے ممکنہ ردعمل متوقع ہے، جو اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا پولیس نے طاقت کا استعمال مناسب طریقے سے کیا یا نہیں۔ سوشل میڈیا پر بھی واقعے پر بحث جاری ہے، جہاں کچھ لوگ اس واقعے کو مذہبی شناخت سے جوڑ رہے ہیں، جب کہ دیگر اسے محض حفاظتی اقدام قرار دے رہے ہیں۔