صوبہ پنجاب میں تباہ کن سیلابی صورتحال کے پیش نظر ریلوے لائن کے تین سیکشنز کو دھماکا خیز مواد سے اڑا دیا گیا تاکہ سیلابی پانی کا رخ موڑ کر انسانی جانوں اور آبادی کو محفوظ کیا جا سکے۔
نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے ترجمان کے مطابق، جھنگ میں سیلاب کے بڑھتے ہوئے دباؤ کو کم کرنے کے لیے ریلوے لائن پر تین مقامات پر بلاسٹنگ کی گئی۔ یہ اقدام ماہر ٹیموں کی نگرانی میں مکمل کیا گیا، جس کے نتیجے میں سیلاب کے لیے متبادل راستے بنائے گئے۔
ترجمان نے مزید بتایا کہ جھنگ پل سے گزرنے والے ڈیڑھ لاکھ کیوسک کے سیلابی ریلے کا رخ موڑ دیا گیا ہے، جب کہ پہلے 4 لاکھ 96 ہزار کیوسک کا سیلابی ریلا براہ راست گزر رہا تھا۔ اس اقدام سے تقریباً 30 دیہات کی آبادی کو ممکنہ تباہی سے بچا لیا گیا ہے۔
مون سون کا 9 واں اسپیل شروع، پنجاب بھر میں طوفانی بارشوں کی پیشگوئی
اس کے علاوہ، جھنگ شہر کو بچانے کے لیے دریائے چناب کا بند بھی توڑ دیا گیا ہے۔ ضلعی انتظامیہ کے مطابق، یہ بند مقامی و فوجی حکام کی نگرانی میں بارودی مواد استعمال کر کے توڑا گیا تاکہ چناب کا دباؤ بیراج پر نہ پڑے۔
گزشتہ روز بھی ہیڈ قادر آباد کے مقام پر حفاظتی بند کو بارودی سرنگ کے ذریعے شگاف دے کر توڑا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ ہیڈ ورکس کی محدود صلاحیت (8 لاکھ کیوسک) کے پیش نظر کیا گیا کیونکہ وہاں پانی کی آمد 9 لاکھ 35 ہزار کیوسک تک پہنچ چکی تھی۔
پس منظر: