خواتین کے لباس سے متعلق نامناسب بیان پر عظمیٰ بخاری کا اعتراف

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

پنجاب کی وزیرِ اطلاعات عظمیٰ بخاری نے حالیہ ایک متنازع بیان پر عوامی ردعمل کے بعد اپنی غلطی تسلیم کر لی ہے۔

latest urdu news

یہ بیان انہوں نے وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز کے لباس پر تنقید کے جواب میں دیا تھا، جس میں ان کے الفاظ نے مزید تنقید کو جنم دیا تھا۔

کچھ روز قبل ایک پریس کانفرنس کے دوران عظمیٰ بخاری نے مخالفین پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’جو مریم نواز کے لباس پر بات کرتے ہیں، وہ اپنے گریبان میں جھانکیں، جن کی اپنی مائیں مناسب لباس پہننا بھی ضروری نہیں سمجھتیں۔‘‘ اس بیان کو خواتین کی تضحیک کے زمرے میں لیا گیا، جس پر سوشل میڈیا اور سیاسی حلقوں میں خاصی تنقید ہوئی۔

پنجاب میں سیلاب سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، عظمیٰ بخاری

اب ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں عظمیٰ بخاری نے اس بیان کو غیر مناسب اور افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ بھی ایک عورت ہیں اور جانتی ہیں کہ خواتین کو لباس کے حوالے سے کس قدر سماجی دباؤ اور تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے صاف لفظوں میں اعتراف کیا کہ ’’میرے الفاظ غلط تھے، اور مجھے ان پر افسوس ہے۔‘‘

عظمیٰ بخاری کا کہنا تھا کہ مریم نواز نہ صرف ایک سیاسی رہنما ہیں بلکہ کسی کی بیٹی، بہن اور ماں بھی ہو سکتی ہیں۔ ’’میں خود ایک ماں ہوں، اور ہمیں خواتین کے خلاف اس قدر زہر اگلنے کی بجائے ان کے کام پر توجہ دینی چاہیے،‘‘ انہوں نے مزید کہا۔

انہوں نے واضح کیا کہ ن لیگ کی خواتین کے خلاف ایک منظم مہم چلائی جا رہی ہے، جس میں خاص طور پر مریم نواز کے لباس کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ ان کے مطابق ’’خواتین کو سر سے پاؤں تک ہر چیز پر تنقید سہنا پڑتی ہے، اور یہ زیادتی ہے۔‘‘

عظمیٰ بخاری نے عوام سے مطالبہ کیا کہ مریم نواز کے کام پر بات کی جائے، ان کی کارکردگی کو زیرِ بحث لایا جائے، نہ کہ ان کے لباس کو۔ ’’یہ سوال ہونا چاہیے کہ مریم نواز صوبے کے لیے کیا کر رہی ہیں؟ خواتین کے لباس پر ہر وقت بات کرنا آخر کیوں ضروری ہے؟‘‘ انہوں نے سوال اٹھایا۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter