شدید بارشوں اور دریاؤں میں پانی کی سطح بلند ہونے کے باعث ضلع منڈی بہاء الدین کے بیشتر علاقے زیرِ آب آ گئے ہیں۔
سینکڑوں افراد گھروں کی چھتوں اور اونچی جگہوں پر پناہ لیے ہوئے ہیں، جہاں وہ سرکاری امداد کے منتظر ہیں۔ ریسکیو ٹیمیں کشتیوں کے ذریعے متاثرین کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے میں مصروف ہیں۔
دوسری جانب، حافظ آباد کے نواحی دیہی علاقوں میں بھی سیلابی پانی نے آبادیوں کو چاروں طرف سے گھیر لیا ہے۔ لوگ نہ صرف اپنی خوراک بلکہ اپنے مویشیوں کے لیے بھی چارے کی قلت کا سامنا کر رہے ہیں۔
ملتان شہر کو بچانے کیلئے ہیڈ محمد والا کے مقام پر شگاف ڈالنے کا فیصلہ
کمالیہ میں صورت حال مزید تشویشناک ہے، جہاں متاثرین کھلے آسمان تلے بے یار و مددگار بیٹھے ہیں۔ امدادی کارروائیوں کی رفتار سست ہونے کے باعث عوامی بے چینی میں اضافہ ہو رہا ہے۔
ادھر دریائے چناب میں پانی کا بہاؤ مسلسل تیز ہو رہا ہے۔ شکر گڑھ میں سیلابی ریلے نے گھروں میں داخل ہو کر نہ صرف سامان کو نقصان پہنچایا بلکہ اہم رابطہ سڑکیں بھی تباہ کر دی ہیں، جس سے آمد و رفت بری طرح متاثر ہوئی ہے۔
وزیر آباد کے قریب واقع نالہ پلکھو کے اوور فلو ہونے سے قریبی دیہات زیرِ آب آ گئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق کئی مویشی پانی میں بہہ گئے، جب کہ کئی افراد نے قیمتی سامان کھو دیا ہے۔
متاثرہ علاقوں میں فوری ریلیف، خوراک، ادویات اور عارضی رہائش گاہوں کی فراہمی وقت کی اہم ضرورت بن چکی ہے۔ عوامی مطالبہ ہے کہ حکومت اور متعلقہ ادارے ہنگامی بنیادوں پر کارروائیاں تیز کریں تاکہ مزید نقصان سے بچا جا سکے۔