پشاور: کمانڈنٹ فرنٹیئر کانسٹیبلری (ایف سی) محمد ریاض نذیر نے کہا ہے کہ ایف سی کا نیا یونٹ 3900 اہلکاروں پر مشتمل ہوگا، جو کسی بھی نئی ذمہ داری کے لیے ہر وقت دستیاب رہے گا۔
کمانڈنٹ ایف سی نے کہا کہ فرنٹیئر کانسٹیبلری کا نام تبدیل کرنے اور خیبرپختونخوا کا حق چھیننے کی باتوں میں کوئی صداقت نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایف سی کی ری آرگنائزیشن کا مقصد صرف کمانڈ اسٹرکچر کو بہتر بنانا ہے۔
ایف سی کا 24 ہزار اہلکاروں پر مشتمل مرکزی سیکیورٹی ڈویژن برقرار رہے گا، جبکہ نیا یونٹ ملک کے چاروں صوبوں سے نفری لے کر تشکیل دیا جائے گا۔
محمد ریاض نذیر نے مزید بتایا کہ ایف سی کے اہلکاروں کے لیے اب 300 نئی آسامیاں پیدا کی جائیں گی تاکہ کانسٹیبلز سمیت سینئر افسران کو ترقی کے مواقع میسر آئیں۔ انہوں نے کہا کہ ایف سی ملک بھر میں سیکیورٹی، کرکٹ میچز، انتخابات اور محرم الحرام جیسے مواقع پر بھی اہم ذمہ داریاں سرانجام دیتی ہے۔
یاد رہے کہ حالیہ دنوں میں وفاقی سطح پر ایف سی کے کردار کو بڑھاتے ہوئے فیڈرل فورس میں تبدیلی کا آرڈیننس بھی جاری کیا گیا ہے، جس کے تحت ایف سی کو ملک بھر میں کام کرنے کا اختیار حاصل ہو گیا ہے۔