پنجاب یونیورسٹی کے جہلم سب کیمپس کو الگ اور خودمختار یونیورسٹی کا درجہ دینے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ نئی مجوزہ یونیورسٹی کا نام "یونیورسٹی آف جہلم” رکھا جائے گا، جس کے قیام کے لیے ابتدائی منصوبہ بندی مکمل ہو چکی ہے۔
ذرائع کے مطابق، پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن نے اس سلسلے میں پنجاب یونیورسٹی کی انتظامیہ کو باقاعدہ مراسلہ ارسال کیا ہے، جس میں کیمپس کو علیحدہ ادارہ بنانے کے لیے پی سی-ون (PC-I) طلب کیا گیا ہے۔ منصوبے کو پنجاب حکومت کے مالی سال 2025-26 کے سالانہ ترقیاتی پروگرام (ADP) میں شامل کر لیا گیا ہے، جس کے تحت یونیورسٹی کو مکمل سرکاری فنڈنگ فراہم کی جائے گی۔
نئی یونیورسٹی کے قیام کا مقصد جہلم اور آس پاس کے اضلاع کے طلبا کو معیاری تعلیم تک بہتر رسائی فراہم کرنا اور تعلیمی انفرااسٹرکچر کو مزید وسعت دینا ہے۔ یونیورسٹی آف جہلم کے قیام سے نہ صرف علاقائی تعلیمی ضروریات کو پورا کیا جا سکے گا بلکہ پنجاب یونیورسٹی کے مرکزی کیمپس پر بھی بوجھ کم ہوگا۔
یاد رہے کہ جہلم کیمپس گزشتہ کئی سالوں سے کامیابی کے ساتھ تعلیمی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے اور اس کی کارکردگی کو مدِنظر رکھتے ہوئے اسے ایک خودمختار ادارے میں تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔