آڈٹ رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ 2 سال کے دوران 2 لاکھ 62 ہزار سے زائد صارفین بجلی چوری میں ملوث پائے گئے، پشاور، حیدرآباد اور لاہور ریجن سرفہرست۔
اسلام آباد: ملک بھر میں بجلی چوری کا سنگین انکشاف سامنے آیا ہے۔ تازہ آڈٹ رپورٹ کے مطابق، گزشتہ دو سالوں (2022-23 اور 2023-24) کے دوران 5 ارب 78 کروڑ روپے مالیت کی بجلی چوری کی گئی، جبکہ 2 لاکھ 62 ہزار 740 صارفین اس میں ملوث پائے گئے۔
رپورٹ کے مطابق، سب سے زیادہ بجلی چوری پشاور، حیدرآباد اور لاہور ریجنز میں ہوئی، جہاں صارفین نے ڈائریکٹ کنکشن، کنڈے، میٹر ٹیمپرنگ اور جعلی میٹرز جیسے طریقوں سے بجلی کا غیر قانونی استعمال کیا۔
دستاویزات میں بتایا گیا ہے کہ:
- پشاور الیکٹرک کمپنی (PESCO) میں 1 ارب 84 کروڑ روپے
- حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (HESCO) میں 1 ارب 61 کروڑ روپے
- لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی (LESCO) میں 1 ارب 35 کروڑ روپے
دوسری جانب، لاہور کے ڈیوس روڈ پر واقع ایک نجی ہوٹل میں بجلی کی بڑی چوری پکڑی گئی۔ لیسکو ترجمان کے مطابق، ہوٹل میں تین تھری فیز میٹرز سے 2 کروڑ 63 لاکھ روپے مالیت کی بجلی چوری کی جا رہی تھی۔
ترجمان کا کہنا ہے کہ ہوٹل انتظامیہ نے میٹرز کو ری پروگرام کیا، سیکیورٹی نظام میں نقب لگائی اور ریڈنگ کو فریز کر کے غیر قانونی طور پر بجلی استعمال کی۔ کارروائی کے دوران میٹرز کو ضبط کر کے مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ بجلی چوری جیسے سنگین جرم کے خلاف سخت کارروائیاں جاری رہیں گی اور اس سلسلے میں ریجنل سطح پر کریک ڈاؤن تیز کر دیا گیا ہے۔