وزیر داخلہ کی وضاحت: "بلوچستان میں دہشت گرد ایک ایس ایچ او کی مار ہیں” کا مفہوم سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اپنے حالیہ بیان پر وضاحت دیتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان سے متعلق اُن کا جملہ سیاق و سباق سے ہٹ کر اور ادھورا پیش کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’بلوچستان میں دہشت گرد ایک ایس ایچ او کی مار ہیں‘‘ کا مقصد ہرگز دہشت گردوں کو معمولی سمجھنا نہیں تھا، بلکہ یہ بات انہوں نے بطور استعارہ کہی۔
اسلام آباد میں وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کے ہمراہ صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے محسن نقوی نے کہا کہ اُن کا اصل مقصد بلوچستان میں سیکیورٹی اداروں کی صلاحیت اور حوصلے کو سراہنا تھا، مگر میڈیا نے بیان کا صرف ایک حصہ دکھایا جس سے غلط تاثر پیدا ہوا۔ انہوں نے کہا، ’’میرا مطلب یہ تھا کہ ہمارے ادارے اتنے مضبوط ہو چکے ہیں کہ دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے مقامی سطح پر بھی مکمل استعداد موجود ہے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ فرنٹیئر کانسٹیبلری (ایف سی) سے متعلق بھی غلط فہمیاں پیدا کی جا رہی ہیں۔ کوئی نئی فورس تشکیل نہیں دی جا رہی، ایف سی وہی ذمہ داریاں انجام دیتی رہے گی جو پہلے سے انجام دے رہی ہے۔
اس موقع پر وزیر مملکت طلال چوہدری نے بھی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایف سی میں قبائلی اضلاع کی نمائندگی برقرار رکھی جائے گی اور وہاں کے نوجوانوں کو اہم ذمہ داریاں سونپی جائیں گی۔
ایک صحافی کی جانب سے 5 اگست کو تحریک انصاف کے ممکنہ احتجاج سے متعلق سوال پر محسن نقوی کا کہنا تھا، ’’پہلے وہ اپنی تیاری مکمل کر لیں، پھر ہم بھی اپنی تیاری دکھا دیں گے۔‘‘
محسن نقوی نے میڈیا سے اپیل کی کہ قومی سلامتی جیسے حساس موضوعات پر دیے گئے بیانات کو مکمل تناظر میں پیش کیا جائے تاکہ عوام تک درست معلومات پہنچیں اور کسی قسم کی غلط فہمیاں جنم نہ لیں۔