پی ٹی آئی سیاسی بحران کی زد میں: سینیٹ امیدواروں کا قیادت کے فیصلے پر انکار

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

پاکستان تحریک انصاف میں اندرونی اختلافات کھل کر سامنے آ گئے ہیں، جب کہ سینیٹ انتخابات میں کورنگ امیدواروں کو دستبردار کرانے کی قیادت کی کوششیں ناکام ہو گئی ہیں۔

پارٹی کی سیاسی کمیٹی نے امیدواروں کو کاغذاتِ نامزدگی واپس لینے کی ہدایت دی، تاہم کئی امیدواروں نے واضح طور پر قیادت کا فیصلہ تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

latest urdu news

پی ٹی آئی کی سیاسی کمیٹی کا اجلاس رات گئے منعقد ہوا، جس میں بانی چیئرمین عمران خان کی جانب سے دی گئی امیدواروں کی فہرست پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا گیا۔ اجلاس میں مشعال یوسفزئی پر اٹھائے گئے اعتراضات مسترد کرتے ہوئے انہیں بانی چیئرمین کے اعتماد کے باعث امیدوار تسلیم کر لیا گیا، جبکہ عرفان سلیم کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے واضح کیا گیا کہ قیادت کی منظوری کے بغیر کسی نام میں تبدیلی ممکن نہیں۔

اجلاس میں اپوزیشن کے ساتھ مفاہمتی معاہدے کی توثیق بھی کی گئی اور ناراض امیدواروں کو کاغذات واپس لینے کی ہدایت دی گئی۔ تاہم دوسری جانب عرفان سلیم، خرم ذیشان، سید ارشاد حسین، عائشہ بانو، وقاص اورکزئی سمیت کئی ناراض رہنماؤں نے قیادت کے فیصلے کو مسترد کر دیا۔

ناراض امیدوار خرم ذیشان نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ "بات صرف سینیٹ الیکشن کی نہیں، اب یہ مزاحمت یا مصلحت کے انتخاب کا لمحہ ہے، اور ہم نے مزاحمت کا فیصلہ کیا ہے۔” انہوں نے قیادت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ "مفاہمت کے نام پر فارم 47 سے جُڑے لوگوں سے گٹھ جوڑ کسی طور قابلِ قبول نہیں۔” انہوں نے سیاست چھوڑنے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا کہ "ہم اصولوں پر کھڑے ہیں، چاہے اس کی قیمت سیاست سے باہر ہونا ہی کیوں نہ ہو۔”

عرفان سلیم نے بھی اپنے بیان میں کہا کہ اسٹیبلشمنٹ کے حمایت یافتہ افراد کو آگے لانے کی سازش کو وہ مسترد کرتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ پارٹی کارکنوں اور عوام کے سامنے جواب دہ ہیں اور کسی مصلحت کا حصہ نہیں بنیں گے۔ ان کا کہنا تھا: "جو اسمبلی عمران خان کے نام پر قائم ہے، ہم اس پر گٹھ جوڑ کا داغ نہیں لگنے دیں گے۔”

یہ صورتحال تحریک انصاف کے لیے ایک بڑا سیاسی چیلنج بن چکی ہے، جہاں سینیٹ انتخابات نے پارٹی کے اندرونی انتشار کو نمایاں کر دیا ہے۔ اگر قیادت اور مزاحمتی امیدواروں کے درمیان اختلافات برقرار رہے تو یہ بحران پی ٹی آئی کے تنظیمی ڈھانچے پر گہرے اثرات ڈال سکتا ہے۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter