پاکستانی پاسپورٹ میں ایک اہم اور تاریخی تبدیلی کا فیصلہ کیا گیا ہے جس کے تحت آئندہ جاری ہونے والے پاسپورٹس پر شہریوں کے والد کے ساتھ ساتھ والدہ کا نام بھی شامل کیا جائے گا۔ اس اقدام کا مقصد نہ صرف بین الاقوامی معیار سے ہم آہنگی ہے بلکہ ان شہریوں کو سہولت دینا بھی ہے جو مختلف قانونی یا انتظامی مسائل کا سامنا کرتے ہیں۔
ڈائریکٹر جنرل امیگریشن اینڈ پاسپورٹس، مصطفیٰ جمال قاضی نے اس فیصلے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ دنیا کے کئی ترقی یافتہ ممالک میں والدہ کا نام پہلے ہی پاسپورٹ اور دیگر اہم دستاویزات پر شامل کیا جاتا ہے۔ پاکستان میں یہ اقدام خاص طور پر ان افراد کے لیے معاون ثابت ہوگا جن کی پرورش سنگل ماؤں نے کی یا جن کے لیے والد کی شناخت دستیاب نہیں۔
ڈی جی پاسپورٹ کے مطابق، یہ فیصلہ ان پاکستانی شہریوں کے لیے بھی سہولت کا باعث ہوگا جنہیں بیرونِ ملک سفری دستاویزات کی جانچ پڑتال کے دوران والدہ کا نام نہ ہونے کے باعث مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
پرانے پاسپورٹس رکھنے والے افراد کے بارے میں وضاحت کی گئی ہے کہ ان کے موجودہ پاسپورٹس میعادِ ختم ہونے تک قابلِ استعمال رہیں گے۔ نئی پالیسی کا اطلاق صرف آئندہ جاری ہونے والے پاسپورٹس پر ہوگا۔
یہ فیصلہ خواتین خصوصاً سنگل ماؤں کے حقوق کی جانب ایک مثبت پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جسے سماجی حلقوں اور خواتین کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے نہایت خوش آئند اور وقت کی ضرورت قرار دیا ہے۔