وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورۂ پاکستان سے متعلق فی الحال کوئی شیڈول یا منصوبہ موجود نہیں ہے۔
سیالکوٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے واضح کیا کہ وائٹ ہاؤس کی جانب سے بھی اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ صدر ٹرمپ کا پاکستان کا کوئی مجوزہ دورہ زیر غور نہیں ہے۔
اس موقع پر انہوں نے ماحولیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ گلوبل وارمنگ میں پاکستان کا کردار نہ ہونے کے برابر ہے، مگر اس کے اثرات ترقی پذیر ممالک کو سب سے زیادہ بھگتنا پڑ رہے ہیں۔
وزیرِ دفاع نے کہا کہ ترقی یافتہ ممالک ماحولیاتی تبدیلیوں کے اصل ذمہ دار ہیں، مگر پاکستان جیسے چھوٹے ممالک اس کے باعث شدید خطرات سے دوچار ہیں۔
امریکی صدر کا دورہ پاکستان، ڈونلڈ ٹرمپ 18 ستمبر کو اسلام آباد آئیں گے
خواجہ آصف نے خبردار کیا کہ پاکستان کو گلیشئرز کے پگھلنے جیسے ماحولیاتی چیلنجز کا سامنا ہے، جس کے لیے جنگلات کی بحالی، ماحولیاتی تحفظ، اور قومی سطح پر مربوط اقدامات کی اشد ضرورت ہے۔
انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ گلوبل وارمنگ کے خلاف مشترکہ اور مؤثر حکمتِ عملی اپنائی جائے تاکہ کرۂ ارض کو مستقبل کے ماحولیاتی بحران سے بچایا جا سکے۔