اسلام آباد: ذائقے، خوشبو اور معیار کے اعتبار سے دنیا بھر میں منفرد پہچان رکھنے والے پاکستانی آم عالمی منڈی میں نمایاں مقام حاصل کر چکے ہیں۔
تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، پاکستان اب آم برآمد کرنے والے دنیا کے تین بڑے ممالک کی فہرست میں شامل ہو گیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق، پاکستان ہر سال اوسطاً 1.5 لاکھ میٹرک ٹن آم مختلف ممالک کو برآمد کرتا ہے، جس کے بعد وہ میکسیکو اور ایکواڈور کے بعد تیسرے نمبر پر آ گیا ہے۔ یہ سنگ میل پاکستانی زرعی شعبے، خاص طور پر باغبانی کے میدان میں ایک بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔
میکسیکو سرفہرست، مگر پاکستان کی پیش رفت نمایاں
عالمی سطح پر آم کی کل پیداوار 5 کروڑ 50 لاکھ میٹرک ٹن سے تجاوز کر چکی ہے، مگر برآمدات کے میدان میں چند ہی ممالک غالب نظر آتے ہیں۔ میکسیکو ہر سال 4.5 لاکھ میٹرک ٹن آم برآمد کرتا ہے اور دنیا کا سب سے بڑا برآمد کنندہ ہے۔ اس کے اہم خریداروں میں امریکہ، کینیڈا، جاپان، جنوبی کوریا اور یورپی ممالک شامل ہیں۔
اس کے برعکس، پاکستان اگرچہ جغرافیائی لحاظ سے محدود برآمدی مواقع رکھتا ہے، لیکن معیار، ذائقے اور قدرتی مٹھاس کے باعث اس کے آموں کی عالمی طلب میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
پاکستانی آم: ذائقے کی پہچان، معیار کی ضمانت
پاکستان میں آم کی کئی اقسام کاشت کی جاتی ہیں، جن میں کچھ عالمی سطح پر ممتاز حیثیت رکھتی ہیں:
- چونسہ: انتہائی رس دار، خوش ذائقہ اور دیرپا
- سندھڑی: بڑی جسامت، میٹھا اور خوشبودار
- انور رٹول: چھوٹا مگر بے حد میٹھا
- لنگڑا: خاص طور پر مشرق وسطیٰ میں مقبول
ان اقسام کی کاشت پنجاب، سندھ اور جنوبی خیبرپختونخوا کے مخصوص علاقوں میں کی جاتی ہے، جہاں موسم، زمین اور زرخیزی آم کے لیے مثالی سمجھی جاتی ہے۔
پاکستان کی برآمدی منڈیاں
پاکستانی آم بنیادی طور پر مشرق وسطیٰ، یورپ، شمالی امریکا اور جنوب مشرقی ایشیا کو برآمد کیے جاتے ہیں۔ حالیہ برسوں میں متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، برطانیہ، کینیڈا اور ملائشیا جیسے ممالک پاکستانی آموں کے بڑے خریدار بن چکے ہیں۔
عالمی مارکیٹ میں آم کی مانگ کا روشن مستقبل
زرعی ماہرین کے مطابق، 2025 سے 2030 کے دوران آم کی عالمی مارکیٹ کی مالیت 70 ارب ڈالر سے تجاوز کر جائے گی۔ اس تناظر میں پاکستان کے لیے زرِمبادلہ کے نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔
اگرچہ پاکستان کی موجودہ پیش رفت حوصلہ افزا ہے، مگر جدید کولڈ چین سسٹمز، برآمدی معیار کی بہتری، پیکیجنگ ٹیکنالوجی اور مارکیٹنگ اسٹریٹجی میں سرمایہ کاری ناگزیر ہے تاکہ پاکستانی آم عالمی منڈی میں مستقل اور مستحکم جگہ بنا سکیں۔