فیصل آباد میں نیشنل سائبر کرائم اینڈ انویسٹیگیشن ایجنسی (NCCIA) نے ایک بڑی کارروائی کے دوران آن لائن فراڈ اور سائبر کرائم کیس کے مرکزی کردار ملک تحسین اعوان کو دوبارہ گرفتار کر لیا ہے۔
تحقیقات کے مطابق، ملزم پر الزام ہے کہ اس نے غیر ملکی گروہوں کے ساتھ مل کر جعلی کمپنیاں قائم کیں، بوگس معاہدے کیے، اور مختلف اداروں کو غلط معلومات فراہم کیں۔ مزید یہ کہ اس نے غیر ملکیوں کو جعلی پاسپورٹ نمبر جاری کیے اور 71 غیر ملکیوں میں سے 62 کی موجودگی کو چھپایا گیا۔
یہ گرفتاری اُس آٹھویں مقدمے کے اندراج کے بعد عمل میں آئی ہے جو NCCIA نے حالیہ دنوں میں درج کیا۔ اس سے قبل 8 جولائی کو فیصل آباد میں ملک تحسین اعوان کے ڈیرے پر قائم ایک جعلی کال سینٹر پر چھاپہ مارا گیا تھا، جس کے نتیجے میں 70 سے زائد غیر ملکیوں سمیت 149 افراد کو حراست میں لیا گیا تھا۔ ان کے خلاف سات مقدمات درج کیے گئے تھے۔
ملک تحسین اعوان نے پہلے سات مقدمات میں قبل از گرفتاری ضمانت حاصل کر لی تھی، تاہم آٹھواں مقدمہ سامنے آنے پر اسے ایک بار پھر گرفتار کر لیا گیا۔ حکام کے مطابق، گرفتار ملزم کو آج عدالت میں پیش کیا جائے گا جہاں اس کے جسمانی ریمانڈ کی درخواست کی جائے گی تاکہ مزید تفتیش ممکن ہو سکے۔
این سی سی آئی اے کے مطابق، یہ گروہ ایک منظم آن لائن فراڈ نیٹ ورک کا حصہ تھا جو ملکی و غیر ملکی سطح پر سرگرم تھا، اور تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کیا جا رہا ہے تاکہ نیٹ ورک کے دیگر ارکان کو بھی گرفتار کیا جا سکے۔