سینئر تجزیہ نگار مظہر عباس کا کہنا ہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان نازک مزاج سیاسی قیدی نہیں بلکہ سخت مزاج اور ثابت قدم ہیں، اور بڑے سیاسی قیدیوں کی طرح غیر ضروری مطالبات کرنے والے نہیں۔
نجی ٹی وی چینل کے ایک پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے مظہر عباس نے کہا کہ وہ حکومت کے دعوے پر اس وقت تک رائے نہیں دیں گے جب تک اپنی آنکھوں سے یہ نہ دیکھ لیں کہ عمران خان کو واقعی "ڈیتھ سیل” میں رکھا گیا ہے یا نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ نہ حکومت کی بات پر اندھا یقین کرتے ہیں، نہ عمران خان کے دعوؤں پر۔
انہوں نے تاریخی حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ خان عبدالولی خان جیسے سیاسی قیدیوں نے کبھی بھی جیل میں سہولتوں کا مطالبہ نہیں کیا۔ ایک بار ان کی بیرک میں بارش کے باعث پانی ٹپکنے لگا، مگر انہوں نے کسی کو اطلاع دینا مناسب نہ سمجھا اور پوری رات ایک کونے میں چادر لپیٹ کر گزار دی۔
مظہر عباس کے مطابق، سیاسی قیدی ایک الگ ذہنیت کے حامل ہوتے ہیں وہ جبر سہنے کے عادی ہوتے ہیں اور اپنی حالت پر واویلا نہیں کرتے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کا شمار بھی ان قیدیوں میں ہوتا ہے جو سخت مزاج ہیں، اور اب تک قید کے دوران بار بار اسپتال جانے جیسے مطالبے سامنے نہیں آئے، جو کہ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں غیر معمولی بات ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ میرے نزدیک یہ طے کرنا ابھی باقی ہے کہ سچ کون بول رہا ہے اور جھوٹ کون جب تک شواہد سامنے نہ آئیں، کوئی حتمی رائے نہیں دی جا سکتی۔
یہ گفتگو ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب عمران خان کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ انہیں جیل میں "ڈیتھ سیل” میں رکھا گیا ہے، جب کہ حکومت اس دعوے کی تردید کر چکی ہے۔