کراچی کے علاقے ڈیفنس میں اداکارہ اور ماڈل حمیرا اصغر کی لاش ملنے کے کیس میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق تفتیش کے دوران اداکارہ کے بینک اکاؤنٹ کی تفصیلات حاصل کر لی گئی ہیں، جن سے معلوم ہوا کہ ان کے ایچ بی ایل کے کرنٹ اکاؤنٹ میں تقریباً 3 لاکھ 98 ہزار روپے موجود تھے۔ تحقیقات میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ وہ باقاعدگی سے اے ٹی ایم سے رقم نکالتی تھیں، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ وہ مالی دباؤ کا شکار نہیں تھیں۔
پولیس نے بتایا کہ جائے وقوعہ سے نہ کوئی زیور برآمد ہوا، نہ ہی نقد رقم ملی، جب کہ حمیرا اصغر کا قیمتی ایپل موبائل فون بھی غائب ہے۔ یہ بات اب تفتیش کا ایک اہم پہلو بن چکی ہے کہ قیمتی اشیاء فلیٹ سے کیسے غائب ہوئیں۔ موبائل فون کے حوالے سے ابھی یہ واضح نہیں ہو سکا کہ وہ ان کے ذاتی استعمال میں تھا یا کسی اور کا۔
حکام نے مزید بتایا کہ دیگر بینک اکاؤنٹس کی چھان بین کے لیے متعلقہ اداروں کو خط لکھا گیا ہے، تاکہ مالی لین دین کی مکمل تصویر واضح ہو سکے۔ تفتیشی ٹیم مختلف زاویوں سے معاملے کا جائزہ لے رہی ہے اور تمام پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے رپورٹ تیار کی جا رہی ہے۔
حمیرا اصغر کی لاش 8 جولائی کو ڈی ایچ اے کے ایک فلیٹ سے ملی تھی، جہاں وہ 2018 سے رہائش پذیر تھیں۔ ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق ان کی موت کو تقریباً 10 ماہ گزر چکے ہیں، اور اندازہ ہے کہ ان کا انتقال اکتوبر 2024 کے آغاز میں ہوا تھا۔