میٹرو بس اور اورنج لائن کے لیے ڈیجیٹل پیمنٹ سسٹم متعارف، الیکٹرک رکشہ اور ٹی کیش کارڈ لانے کا فیصلہ

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

 وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی زیر صدارت ایک اہم اجلاس میں صوبے کے ماس ٹرانزٹ سسٹم کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے کئی بڑے فیصلے کیے گئے، جن میں میٹرو بس اور اورنج لائن ٹرین کے لیے ڈیجیٹل پیمنٹ سسٹم کا آغاز، الیکٹرک رکشہ متعارف کرانے اور یکساں ’ٹی کیش کارڈ‘ جاری کرنے کی منظوری شامل ہے۔

latest urdu news

اجلاس میں ٹرانسپورٹ ڈیپارٹمنٹ اور ماس ٹرانزٹ اتھارٹی کی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ لاہور، ملتان، راولپنڈی اور اسلام آباد میں میٹرو بسوں اور اورنج لائن ٹرین کے موجودہ ٹوکن سسٹم کو ختم کر کے جدید بارکوڈ اور کارڈ بیسڈ ادائیگی کا نظام متعارف کرایا جا رہا ہے۔

مسافر اب کریڈٹ کارڈ، ڈیبٹ کارڈ، موبائل والٹ یا این ایف سی (ٹچ اینڈ گو) سسٹم کے ذریعے کرایہ ادا کر سکیں گے۔ وزیراعلیٰ نے خصوصی طور پر تمام میٹرو سروسز کے لیے ایک ہی ’ٹی کیش کارڈ‘ کی منظوری دی، جو پورے صوبے میں ماس ٹرانزٹ میں استعمال ہو سکے گا۔ طلبا کے لیے علیحدہ کارڈ بھی متعارف کرایا جائے گا۔

اجلاس میں ٹیکنیکل اسامیوں پر گریڈ 5 سے 18 تک بھرتیوں کی بھی اصولی منظوری دی گئی۔ وزیراعلیٰ مریم نواز نے موٹر سائیکل رکشوں کی جگہ ماحول دوست الیکٹرک رکشے متعارف کرانے پر اتفاق کیا اور متعلقہ اداروں سے فوری طور پر سفارشات طلب کر لیں۔

اس کے ساتھ ساتھ وزیراعلیٰ نے پنجاب میں پہلی بار ایک بین الاقوامی ٹرانسپورٹ ایکسپو کے انعقاد کی منظوری دی۔ مزید برآں، گاڑیوں کی رجسٹریشن، شناخت اور مانیٹرنگ کے لیے ایک جامع آر ایف آئی ڈی اسٹیکر سسٹم بھی متعارف کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

اجلاس کے دوران سیکرٹری ٹرانسپورٹ عمران سکندر بلوچ نے وزیراعلیٰ کو ییلو لائن لاہور اور گوجرانوالہ بی آر ٹی منصوبوں پر تفصیلی بریفنگ دی۔ بتایا گیا کہ اگست 2025ء سے پنجاب کے مختلف اضلاع میں الیکٹرک بسوں کی فراہمی کا عمل بھی شروع کر دیا جائے گا۔

لاہور میں جدید سہولیات سے آراستہ 50 پری فیبری کیٹڈ بس شیلٹرز کی تنصیب کے لیے ڈیزائن اور رنگ کے انتخاب پر بھی غور کیا گیا، اور جلد کام شروع ہونے کی امید ظاہر کی گئی۔

وزیراعلیٰ مریم نواز نے کہا کہ جدید، مؤثر اور ماحول دوست ٹرانسپورٹ سسٹم ہی ترقی یافتہ پنجاب کی بنیاد بنے گا۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter