عوام کیلئے مہنگی بجلی کے بوجھ تلے دبے حالات میں ایک اچھی خبر سامنے آئی ہے۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رکنِ صوبائی اسمبلی پیر اشرف رسول نے حکومت سے بجلی کے بلوں میں فوری اصلاحات اور کم آمدنی والے صارفین کو ریلیف فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
پیر اشرف رسول نے اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کو ایک تحریری خط ارسال کیا ہے جس میں انہوں نے زور دیا ہے کہ بجلی کے سستے یونٹس کی حد کو 200 سے بڑھا کر 400 یونٹ تک کیا جائے، تاکہ وہ صارفین جو بمشکل اپنے ماہانہ اخراجات پورے کرتے ہیں، انہیں بجلی کے بلوں میں کسی حد تک ریلیف مل سکے۔
ایم پی اے کا کہنا تھا کہ موجودہ بلنگ نظام نے کم یونٹ استعمال کرنے والے لاکھوں صارفین کو مشکلات میں ڈال رکھا ہے، جہاں 200 یونٹ استعمال کرنے والا شہری پانچ ہزار روپے ادا کرتا ہے، وہیں صرف ایک یونٹ اضافے پر بل پندرہ ہزار تک جا پہنچتا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ ایک یونٹ کے اضافے پر شہری کو چھ ماہ کے لیے نان پروٹیکٹڈ قرار دینا غیر منصفانہ ہے۔
انہوں نے تجویز دی کہ اس "پروٹیکٹڈ” اور "نان پروٹیکٹڈ” کی درجہ بندی کو مزید مؤثر اور لچکدار بنایا جائے، کم از کم ایک ماہ کی بنیاد پر۔
پیر اشرف رسول نے یہ بھی سفارش کی کہ نیپرا اور ڈسکوز کو ہدایت کی جائے کہ وہ بجلی کے بلنگ تنازعات پر فوری کارروائی کریں تاکہ عوام کا اداروں پر اعتماد بحال ہو سکے۔
ان کا کہنا تھا کہ توانائی کی قیمتوں میں نرمی نہ صرف گھریلو صارفین کے لیے سہولت کا باعث بنے گی بلکہ ملکی معیشت میں سرمایہ کاری کے رجحان کو بھی فروغ دے گی۔
یاد رہے کہ اس سے قبل قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے توانائی کے اجلاس میں بھی اسی معاملے کو زیر بحث لایا گیا تھا، جہاں 200 اور 201 یونٹس کے بلوں میں ہوشربا فرق پر اراکین نے تشویش کا اظہار کیا تھا۔