پنجاب حکومت نے صوبے میں زمینوں پر قبضے، غیر قانونی تعمیرات، تجاوزات، پرائس کنٹرول، مارکیٹ مینجمنٹ اور دیہی و شہری علاقوں میں زوننگ کی بہتری کے لیے ایک اہم ادارہ قائم کیا ہے جس کا نام ہے: پنجاب انکروچمنٹ اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی (PERA)۔
یہ اتھارٹی جدید ٹیکنالوجی، مربوط پالیسی سازی، اور سخت قانونی فریم ورک کے تحت کام کرے گی تاکہ شہری اور دیہی علاقوں میں زمینوں کے تحفظ، قیمتوں کے کنٹرول، اور بازاروں کی مؤثر نگرانی کو یقینی بنایا جا سکے۔ آئیے تفصیل سے جانتے ہیں کہ پیرا کیا ہے، اس کے اغراض و مقاصد کیا ہیں، یہ کیسے کام کرے گا، اور اس کے ڈھانچے میں کیا شامل ہے۔
پیرا کیا ہے؟
پیرا (Punjab Encroachment and Regulatory Authority) حکومتِ پنجاب کا قائم کردہ ایک نیا خودمختار ادارہ ہے، جس کا مقصد سرکاری، نیم سرکاری، اور نجی زمینوں پر تجاوزات، قبضے اور غیر قانونی تعمیرات کی روک تھام کرنا، قیمتوں کا کنٹرول اور بازاروں کی منظم نگرانی کرنا ہے۔ یہ اتھارٹی قبضہ مافیا کے خلاف مربوط انداز میں کارروائی کرے گی، قیمتوں پر نظر رکھے گی، اور عوام کو ان کی جائیداد کے تحفظ کے لیے سہولت فراہم کرے گی۔
پیرا کے اغراض و مقاصد:
- زمینوں کا تحفظ: سرکاری اور نجی زمینوں کو تجاوزات اور غیر قانونی قبضے سے بچانا۔
- ریکارڈ کی ڈیجیٹلائزیشن: زمینوں کا مکمل اور شفاف ریکارڈ ڈیجیٹل طریقے سے مرتب کرنا تاکہ کسی قسم کی رد و بدل ممکن نہ ہو۔
- تجاوزات کی نشاندہی: ڈرون سروے، سیٹلائٹ امیجنگ، اور جیوگرافک انفارمیشن سسٹم (GIS) کے ذریعے تجاوزات کی فوری نشاندہی۔
- قانونی فریم ورک کا نفاذ: تجاوزات کے خلاف فوری قانونی کارروائی کرنا اور ایسے عناصر کے خلاف عدالتوں میں مقدمات چلانا۔
- عوامی شکایات کا ازالہ: شہریوں کے لیے ایک پلیٹ فارم مہیا کرنا جہاں وہ شکایت درج کروا سکیں کہ ان کی زمین پر ناجائز قبضہ کیا گیا ہے۔
- سرکاری اداروں سے ربط: محکمہ مال، پولیس، اینٹی کرپشن اور ضلعی انتظامیہ کے ساتھ تعاون کے تحت مشترکہ آپریشنز کا انعقاد۔
- آگاہی اور مہمات: عوام میں زمینوں سے متعلق حقوق کے بارے میں آگاہی پیدا کرنا اور قانونی طریقہ کار سے متعلق معلومات فراہم کرنا۔
- پرائس کنٹرول اور مارکیٹ مینجمنٹ: اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر کنٹرول، ذخیرہ اندوزی کے خلاف کارروائی، بازاروں میں منصفانہ نرخوں کا تعین، اور گراں فروشی کی روک تھام۔
- زوننگ و نظم و ضبط: شہری اور دیہی علاقوں میں ترقیاتی منصوبہ بندی، زوننگ کا نفاذ، اور مارکیٹوں و رہائشی علاقوں کی علیحدگی کو یقینی بنانا۔
یہ بھی پڑھیں: قانون صرف غریب کیلئے نہیں، طاقتور پر بھی لاگو ہوگا، مریم نواز
پیرا کا دائرہ کار اور طریقہ کار:
پیرا پورے صوبہ پنجاب میں اپنے اختیارات کے تحت کام کرے گا۔ یہ اتھارٹی ضلعی سطح پر دفاتر قائم کرے گی، جہاں پر فوری ایکشن ٹیمیں موجود ہوں گی جو موقع پر جا کر کارروائی کر سکیں گی۔ ہر ضلع میں پیرا کی ٹیم، ضلعی انتظامیہ کے تعاون سے سروے کرے گی، اور تجاوزات کی نشاندہی کے بعد نوٹس جاری کر کے کارروائی کرے گی۔
طریقہ کار:
- ڈیجیٹل ریکارڈ کی تیاری: ہر زمین کی ملکیت، استعمال، اور قانونی حیثیت کا مکمل ڈیجیٹل ریکارڈ مرتب کیا جائے گا۔
- ڈرون اور سیٹلائٹ امیجنگ: ہر علاقے کی باقاعدہ نگرانی ڈرونز اور سیٹلائٹ کے ذریعے کی جائے گی تاکہ کسی نئی تجاوزات کی فوری نشاندہی کی جا سکے۔
- آن لائن شکایتی نظام: عوام شکایات موبائل ایپ یا ویب پورٹل کے ذریعے درج کروا سکیں گے۔
- فوری ایکشن: شکایت موصول ہوتے ہی پیرا کی ٹیم جائے وقوعہ پر جائے گی، رپورٹ تیار کرے گی، اور 48 گھنٹوں میں کارروائی کرے گی۔
- رپورٹنگ اور مانیٹرنگ: ہر آپریشن، شکایت، اور نتیجے کی رپورٹ وزیراعلیٰ آفس، چیف سیکریٹری، اور متعلقہ محکموں کو بھیجی جائے گی۔
پیرا کا تنظیمی ڈھانچہ:
- پیرا کا مرکزی دفتر لاہور میں قائم کیا جائے گا اور ہر ضلع میں اس کی شاخیں ہوں گی۔ اس اتھارٹی میں درج ذیل عہدے شامل ہوں گے:
- چیئرمین پیرا: اتھارٹی کا سربراہ ہوگا جو وزیر اعلیٰ پنجاب کو رپورٹ کرے گا۔
- ڈائریکٹر جنرل: اتھارٹی کی روزمرہ کی کارکردگی کا نگران۔
- ڈپٹی ڈائریکٹرز (ضلعی سطح پر): ہر ضلع میں ذمہ داریاں انجام دیں گے۔
- انٹیلیجنس اور سروے آفیسرز: تجاوزات کی نگرانی، سروے اور رپورٹنگ کے لیے۔
- قانونی مشیران: قانونی چارہ جوئی اور مقدمات کی پیروی کے لیے۔
- آئی ٹی اور ڈیجیٹل ٹیم: ریکارڈ کی ڈیجیٹلائزیشن، ویب پورٹل اور ایپ کی نگرانی کے لیے۔
- فیلڈ ایکشن ٹیمیں: موقع پر جا کر کارروائی کرنے والی تربیت یافتہ ٹیمیں۔
پیرا کس کے ماتحت کام کرے گی؟
پیرا براہ راست وزیر اعلیٰ پنجاب اور چیف سیکریٹری پنجاب کے ماتحت کام کرے گی۔ اس کا بجٹ، پالیسی سازی، اور اعلیٰ سطحی نگرانی وزیر اعلیٰ آفس کے تحت ہوگی۔ اس کے علاوہ، محکمہ مال، محکمہ داخلہ، اور محکمہ بلدیات اس کے معاون ادارے ہوں گے۔
پرائس کنٹرول اور مارکیٹ مینجمنٹ:
اگرچہ پیرا کا بنیادی دائرہ کار زمینوں کی نگرانی اور تجاوزات کی روک تھام ہے، مگر حکومت پنجاب کی جانب سے اسے مارکیٹ ریگولیشن اور قیمتوں کے کنٹرول کے لیے بھی فعال کردار سونپا گیا ہے۔
اقدامات:
- ڈیجیٹل قیمتوں کا نظام: پیرا روزانہ کی بنیاد پر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کو مانیٹر کرے گی اور موبائل ایپ یا ویب سائٹ پر سرکاری نرخ عام شہریوں کے لیے جاری کرے گی۔
- مارکیٹ انسپکشن: پیرا کی ٹیمیں پرائس کنٹرول مجسٹریٹس کے ساتھ مل کر بازاروں میں گراں فروشی کے خلاف چھاپے ماریں گی اور خلاف ورزی کرنے والوں پر جرمانے عائد کیے جائیں گے۔
- شکایات کا ازالہ: عوام کو موبائل ایپ یا ہیلپ لائن کے ذریعے مہنگائی یا ناجائز منافع خوری کے خلاف شکایت کا حق دیا جائے گا، جس پر فوری کارروائی ہوگی۔
- ذخیرہ اندوزی کی نگرانی: پیرا گوداموں اور ہول سیل مارکیٹوں کی نگرانی کرے گی تاکہ مصنوعی قلت پیدا نہ ہو سکے۔
- ریٹ تعین میں شفافیت: مقامی سطح پر ہول سیلرز، ریٹیلرز اور صارفین کی مشاورت سے روزانہ کی بنیاد پر نرخ طے کیے جائیں گے تاکہ کسی فریق پر غیر ضروری بوجھ نہ پڑے۔
پنجاب انکروچمنٹ اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی (پیرا) کا قیام زمینوں کے تحفظ، قیمتوں کے استحکام، اور شہری و دیہی ترقی کی شفاف حکمرانی کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ اگر پیرا تمام شعبوں میں فعال اور شفاف انداز میں کام کرے تو یہ ادارہ عوام کے لیے حقیقی معنوں میں فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔