366
حکومت نے تنخواہ دار طبقے کے لیے انکم ٹیکس فائلنگ کو نہایت آسان اور تیز تر بنا دیا ہے۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے ایک نیا خودکار آن لائن فارم متعارف کروایا ہے، جو آپ کی تنخواہ، خریداری، بینک بیلنس اور ٹیکس کٹوتیوں سمیت تمام معلومات خودبخود جمع کرے گا۔
نیا نظام کیسے کام کرے گا؟
- یہ فارم آٹھ مراحل پر مشتمل ایک سادہ آن لائن عمل ہے۔
- ہر مرحلے میں صرف ایک سوال ہوگا، اور آپ کے جواب کے ساتھ ہی سسٹم باقی تفصیلات خودکار طور پر بھر دے گا۔
- جیسے ہی آپ اپنی کمپنی یا ادارے کا نام درج کریں گے، سسٹم خود بخود یہ معلومات فراہم کر دے گا کہ آپ کو کتنی تنخواہ ملی اور اس پر کتنا ٹیکس کاٹا گیا۔
- آپ کا قومی شناختی کارڈ (CNIC) نمبر درج کرنے پر، سسٹم خود بخود آپ کی خریداری، بجلی و گیس کے بل، بینک اکاؤنٹس، اور دیگر ٹیکس کٹوتیوں کا ریکارڈ فارم میں شامل کر دے گا۔
- اگر آپ بینک کی تفصیل فراہم کریں، تو سسٹم ازخود بیلنس بھی فارم میں شامل کر دے گا۔
- یعنی اب نہ کسی ماہر ٹیکس ایجنٹ کی ضرورت ہے، نہ ہی طویل تفصیلات لکھنے کی زحمت — بس معلومات کی تصدیق کریں اور فارم جمع کرا دیں۔
یہ سہولت کب اور کن کے لیے دستیاب ہے؟
- فی الحال یہ فارم صرف تنخواہ دار افراد کے لیے دستیاب ہے۔
- اردو ورژن جولائی کے آخر تک جاری کر دیا جائے گا، جبکہ جلد ہی یہ فارم پنجابی، سندھی، پشتو اور بلوچی زبانوں میں بھی دستیاب ہوگا۔
- کاروباری افراد 30 جولائی کے بعد اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔
- انکم ٹیکس جمع کرانے کی آخری تاریخ 30 ستمبر مقرر کی گئی ہے۔
ریفنڈ پالیسی میں نرمی
وزیراعظم شہباز شریف نے ایف بی آر کو ہدایت دی ہے کہ 50 ہزار روپے تک کے ریفنڈز ایک ماہ کے اندر جاری کیے جائیں۔ اس مقصد کے لیے 10 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
معاونت کے لیے ہیلپ لائن
وزیراعظم کی ہدایت پر ایف بی آر ایک ہیلپ لائن بھی قائم کر رہا ہے تاکہ اگر کسی فرد کو فارم بھرنے میں مشکل پیش آئے تو وہ فوری رہنمائی حاصل کر سکے۔
جدید ٹیکنالوجی کا استعمال
ٹیکس نظام میں اب مصنوعی ذہانت (AI) اور جدید ٹیکنالوجی کا استعمال بھی شامل کیا گیا ہے تاکہ پورا عمل خودکار، تیز رفتار اور محفوظ بنایا جا سکے۔