اسلام آباد: حکومت نے نئی سولر پالیسی کے تحت نیٹ میٹرنگ ختم کر کے گراس میٹرنگ سسٹم متعارف کرانے کا فیصلہ کر لیا ہے، جس کے تحت گھریلو و کمرشل سطح پر سولر بجلی پیدا کرنے والے صارفین سے بجلی خریدنے کی نئی شرح طے کر دی گئی ہے۔ نئی پالیسی جلد وزیراعظم کو پیش کی جائے گی، جبکہ اس کی حتمی منظوری نیپرا اور کابینہ سے لی جائے گی۔
پاور ڈویژن کے مطابق نیٹ میٹرنگ کے نظام سے قومی خزانے پر 103 ارب روپے کا بوجھ پڑا، جبکہ گرڈ بجلی کے صارفین پر 159 ارب روپے کا اضافی دباؤ آیا۔ ان حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے نیٹ میٹرنگ ختم کر کے گراس میٹرنگ نافذ کی جا رہی ہے، جس کے تحت بجلی کی واپسی کی نئی قیمت 11.33 روپے فی یونٹ مقرر کی گئی ہے۔ تاہم پرانے سولر صارفین تاحال 27 روپے فی یونٹ پر بجلی فروخت کرتے رہیں گے۔
سولر پینل صارفین کے لیے بڑی خوشخبری: ٹیکس میں کمی، منافع خوری پر کریک ڈاؤن کا اعلان
نئی پالیسی کے مطابق مستقبل میں بجلی کی واپسی کی قیمت، بجلی کے فی یونٹ موجودہ نرخ کا ایک تہائی ہوا کرے گی، یعنی اگر بجلی کی قیمت 33 روپے فی یونٹ ہوئی تو صارف کو واپس بیچنے پر 11 روپے فی یونٹ ملیں گے۔ پاور ڈویژن نے بتایا ہے کہ اس پالیسی کے تحت 8500 میگاواٹ بجلی سسٹم میں لانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، تاکہ توانائی کے شعبے میں خود کفالت حاصل کی جا سکے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل سولر سرمایہ کاروں اور صارفین نے نیٹ میٹرنگ کی قیمت میں ممکنہ کمی کو مسترد کرتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ اس اقدام سے قابلِ تجدید توانائی کی طرف عوامی رجحان متاثر ہو سکتا ہے۔ نئی پالیسی کے نفاذ کے بعد ملک میں سولر توانائی کے مستقبل اور سرمایہ کاری کے رجحانات پر بھی گہرے اثرات متوقع ہیں۔