2 لاکھ روپے سے زائد کیش ٹرانزیکشنز "ہائی رسک” قرار، 20.79 فیصد ٹیکس عائد

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے 2 لاکھ روپے سے زائد کیش ٹرانزیکشنز کو "ہائی رسک” قرار دے کر ان پر سخت نگرانی کا عمل شروع کر دیا ہے۔

فنانس ایکٹ 2025 کے تحت نئی پابندیاں نافذ کر دی گئی ہیں، جن کے مطابق 2 لاکھ روپے سے زائد کیش جمع کروانے پر 20.79 فیصد ٹیکس لاگو ہوگا۔

latest urdu news

ایف بی آر کا کہنا ہے کہ ایک ہی ٹرانزیکشن میں 2 لاکھ روپے سے زائد کیش جمع کروانے پر رقم کو لیجر میں کریڈٹ نہیں کیا جائے گا، اور ٹیکس قوانین کی خلاف ورزی پر خودکار سسٹم کے ذریعے نگرانی کی جائے گی۔ مشکوک کیش ٹرانزیکشنز کی رپورٹنگ بینک بھی ایف بی آر کو کر سکیں گے۔

مزید یہ کہ 2 لاکھ روپے سے زائد رقم جمع کروانے والے سے وضاحت اور ثبوت طلب کیے جا سکتے ہیں تاکہ ٹیکس چوری یا دیگر غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کی جا سکے۔

موٹرویز پر ٹول ٹیکس میں 100 فیصد سے زائد اضافہ، سینیٹ کمیٹی میں انکشاف

ایف بی آر نے ہائی رسک کیش ٹرانزیکشنز کے لیے سخت ٹریکنگ سسٹم بھی نافذ کر دیا ہے، تاکہ ملک میں مالی شفافیت کو فروغ دیا جا سکے اور غیر قانونی کیش فلو کو روکا جا سکے۔

کاروباری طبقے کا ردعمل:

ایف بی آر کے ان اقدامات پر ملک بھر کی بزنس کمیونٹی نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے، اور 19 جولائی کو ملک گیر ہڑتال کا اعلان کر دیا ہے۔ کراچی چیمبر آف کامرس کے صدر جاوید بلوانی کا کہنا ہے کہ کراچی، لاہور، سیالکوٹ، فیصل آباد، پشاور، کوئٹہ اور راولپنڈی کے چیمبرز اس اقدام کے خلاف ایک پیج پر ہیں۔

جاوید بلوانی نے کہا کہ ایف بی آر کو دیے گئے اضافی اختیارات، بشمول سیکشن 37A، 37B اور 21، بزنس کمیونٹی کے لیے ناقابل قبول ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ وزارت خزانہ نے ان اہم ٹیکس اصلاحات سے پہلے کاروباری برادری سے کوئی مشاورت نہیں کی۔

انہوں نے مزید کہا کہ کراچی کے سات صنعتی زونز 19 جولائی کو مکمل طور پر بند ہوں گے اور یہ ایک پرامن ہڑتال ہوگی، جس کے بعد مرحلہ وار احتجاج کا دائرہ بڑھایا جائے گا۔

حکومت کا مؤقف ہے کہ ان اقدامات کا مقصد ٹیکس نیٹ کو وسعت دینا اور کالے دھن کے بہاؤ کو روکنا ہے، لیکن تاجر طبقہ ان پالیسیوں کو اعتماد توڑنے والی کارروائیاں قرار دے رہا ہے۔ اگر حکومت اور کاروباری برادری کے درمیان کوئی مفاہمتی عمل نہ ہوا، تو ملک کی معاشی سرگرمیاں مزید جمود کا شکار ہو سکتی ہیں۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter