امریکا سے ہنگامی بنیادوں پر تارکینِ وطنوں کی جبری بیدخلی، گرفتاریوں اور چھاپوں پر روتے ہوئے ویڈیو بیان ریکارڈ کروانے والی اداکارہ سلینا گومز کو ٹرمپ حکومت کا جواب سامنے آگیا۔
امریکی گلوکارہ اور اداکارہ سلینا گومز کی جذباتی ویڈیو، جس میں انہوں نے امریکا میں تارکین وطن کی جبری بیدخلی اور چھاپوں پر کڑی تنقید کی تھی، پر ٹرمپ انتظامیہ کا سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔
عالمی میڈیا کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے امیگریشن مشیر نے سلینا گومز کی ویڈیو پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ جذباتی بیانات اور ویڈیوز سے حقائق کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ امیگریشن پالیسی کے حوالے سے کسی کے ساتھ امتیازی سلوک نہیں ہوگا، سب کے لیے ایک ہی قانون ہے۔
امیگریشن مشیر نے مزید کہا کہ غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف کارروائیاں امریکا کی سرحدوں کو محفوظ بنانے اور قانون کی بالادستی کے لیے ناگزیر ہیں، اور اس حوالے سے کسی قسم کی رعایت نہیں دی جائے گی۔
یاد رہے کہ سلینا گومز نے اپنی ویڈیو میں روتے ہوئے کہا تھا کہ یہ چھاپے اور بیدخلیاں خاندانوں کو تقسیم کر رہی ہیں اور امریکا آنے والے ہزاروں افراد کو مایوسی اور تکلیف میں مبتلا کر رہی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا تھا کہ ہم انسان ہیں اور ہمیں محبت اور ہمدردی کی ضرورت ہے، لیکن یہ پالیسیاں دل شکن اور تکلیف دہ ہیں۔
ٹرمپ انتظامیہ کے اس سخت مؤقف کے بعد معاملہ مزید تنازعے کا شکار ہو سکتا ہے، کیونکہ انسانی حقوق کے کارکنان بھی ان پالیسیوں کے خلاف اپنی آواز بلند کر رہے ہیں۔